الكتاب: الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه = صحيح البخاري
المؤلف: محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي
------------------------------
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سید الاستغفار یہ ہے: اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَاَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ
جو شخص اس دعا کو یقین رکھتے ہوئے دن میں پڑھ لے اور اسی دن رات آنے سے پہلے مرجائے تو وہ جنتی ہے اور جو شخص یقین رکھتے ہوئے رات میں اس دعا کو پڑھ لے اور صبح ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے تو وہ جنتی ہے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
[10:25am, 3/26/2016] +92 334 2005008: خواجہ شمس العالم حافظ شمس الدین ترک پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ
آپؒ کا نام شمس الدین اور لقب شمس العالم ہے۔ آپؒ کا سلسلۂ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہ سے جا ملتا ہے۔ آپؒ ۲۱ جمادی الاول ۵۹۷ھ بمطابق ۱۱۳۰ء بمقام سرخس (ترکستان) پیدا ہوئے۔ بچپن میں قرآن حفظ کیا، تمام علوم متداولہ، علوم معقول و منقول، ریاضی ہیئت اور ہندسہ میں اپنے ملک ترکستان ہی میں دسترس حاصل کی۔ بعد حصولِ علوم ظاہری مرشد کی تلاش میں گھر سے نکلے۔ کئی بزرگوں سے ملاقات کی لیکن کسی سے روحانی طبیعت سیر نہ ہوئی۔ آخر ہندوستان کا رخ کیا اور پانی پت میں قیام کیا، سلطان غیاث الدین بلبن کی فوج میں ملازمت اختیار کی۔ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کی شہرت سنی تو پاکپتن شریف تشریف لے گئے، صورت دیکھتے ہی دل و جان سے عاشق ہوئے اور پنا مدعا بیان کیا۔ بابا جیؒ نے فرمایا "تمہارا حصہ ہمارے پاس نہیں ہے، تم میرے بھانجے علی احمد صابرؒ کی خدمت میں جاؤ کہ صابرؒ کا سلسلہ تم ہی سے چلے گا"۔
بابا جیؒ کے حکم سے آپؒ مخدوم صابرؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خلافت حاصل کی، کچھ عرصہ دہلی میں گزارا مگر سلطان کی آمد اور لوگوں کے ہجوم سے گھبراتے تھے، اِس لیے شیخؒ کی خدمت میں واپس تشریف لے گئے۔
مرشدؒ کے حکم سے علاؤالدین خلجی کی فوج میں ملازمت اختیار کی۔ مخدومؒ نے آپؒ کو فوج کی ملازمت سے پیشتر خلافت سے نواز کر پانی پت کی قطبیت عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا "میری وفات کے تین دن بعد پانی پت چلے جانا، اللہ نے تم کو وہاں کی ولایت عطا فرمائی ہے"۔ آپؒ نے کہا "حضور، وہاں تو حضرت شرف الدین بو علی قلندر ہیں"، فرمایا "ان کی ولایت وہاں سے ختم ہو گئی ہے"۔
شیخؒ کے وصال، تجہیز و تکفین کے بعد پانی پت تشریف لے گئے اور تبلیغ کا کام شروع کیا۔ آپؒ کی دلسوز قرأت سے تبلیغ اور قرآن کی اشاعت خوب ہوئی۔ یہی فیضان ہے کہ آج بھی جس قدر چھوٹے نابالغ حافظِ قرآن پانی پت میں ملتے ہیں، اتنے شاید کہیں اور نہیں ہوتے۔
آپؒ کے سنِ وفات میں اختلاف ہے۔ بعض ۷۱۵ھ جبکہ بعض ۷۱۸ھ لکھتے ہیں۔ پانی پت میں دفن ہوئے، تاریخِ وفات ۱۳ ربیع الاول ہے۔
[11:17am, 3/26/2016] +92 334 2005008: نحن اقرب راکنم تحقیق تر
از شہ رگی نزدیک بینم بانظر
"جب میں نے نحن اقرب الیہ من حبل الورید کی تحقیق سے دیکھا تو اللہ تعالیٰ مجھے شہ رگ سے قریب تر نظر آیا۔"
حضرت سلطان باھوؒ نورالہدیٰ:ص 109
[11:18am, 3/26/2016] +92 334 2005008: بندے اور مولٰی کے درمیان رابطے کا وسیلہ اسم اللہُ ہی تو ہے۔ تمام اولیاٗ اللہ غوث و قطب اہل اللہ کو ذکر فکر الہام مذکور غرق توحید و کشف کرامات اور علم لدنی کے جتنے بھی مراتب ملتے ہیں اسم اللہُ ہی کی برکت سے ملتے ہیں کہ اسم اللہُ سے علمِ لدنی کھلتا ہے جس کے پڑھ لینے کے بعد کسی اورعلم کے پڑھنے کی حاجت نہیں رہتی۔
عین الفقر، ص : 23، حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ
[8:22pm, 3/26/2016] +92 334 2005008: سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمته الله علیه فرماتے هیں :
"راه طریقت میں سب سے پهلی اور اهم بات مرشد کامل کا ملنا هے . جسے مرشد کامل کی صحبت نصیب هو گئی سمجھ لے اسے منزل مل گئی. اس لیئے طالب مولا پر لازم هے که بیعت کرتے وقت مشاهده حق تعالٰی اور اطمینان قلب کے ساتھ یقین کامل رکھے کیونکه اسکا ظاهری هاتھ مرشد کامل کے ظاهری هاتھ پر هوتا هے.
حالا نکه حقیقت میں اسکی روح کا هاتھ مرشد کامل کے انوار ﺫاتی کے هاتھ پر هوتا هے کیو نکه مرشد وه نهیں جو صرف ظاهری هاتھ پکڑ کر نصیحت کردے بلکه مرشد کامل اپنی روحانی قوت و تصرف کے هاتھ سے طالب کے دل پر کنٹرول کرتا هے.
(از صاحب لولاک صفحه 221)
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمته الله علیه
[3:33pm, 3/27/2016] +92 334 2005008: ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺮﯾﺒﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﺎﻧﮑﻨﺎ ﭘﮍﮮ ﺗﻮﺳﺮﺟﮭﮑﺎﻧﺎ
ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻧﺎ ﮐﻮ ﺑﺎﻻﺧﺮ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﮐﯽ ﺑﯿﻌﺖ ﻟﯿﻨﯽ ﮨﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ . ﺍﻭﺭ ﯾﮧ
ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺁﻏﺎﺯ ﻓﻨﺎﺋﯿﺖ ﮨﮯ
[3:41pm, 3/27/2016] +92 334 2005008: اللہ والے کہتے ہیں کہ " دعا " الفاظ کا نہیں , کیفیات کا نام ہے- مظلوم کے پاس کون سا اسم اعظم یا کون سا وظیفہ ہوتا ہے جو غیب سے فورا" فیصلے کروا لیتا ہے- درحقیقت مظلوم کی آہ , اس کی آہ وزاری اور بے بس ہوکے صرف اللہ کی طرف متوجہ ہونا , یہی غیب سے فیصلہ کروا لیتا ہے , اس لیے دعا مانگتے وقت الفاظ سے زیادہ کیفیت پر توجہ دو , کیونکہ تم جس رب کو پکار رہے ہو وہ تو بے زبانوں کی بھی سن لیتا ہے
[1:37pm, 3/30/2016] +92 334 2005008: جو شخص اسم اللہ ذات کو پڑھ کر اُس کا حافظ ہو جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے۔
عین الفقر، ص : 99، حضرت سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ
[6:10pm, 3/30/2016] +92 333 7554330: افسوسناک خبر! ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ محمد وقاص عطاری جو کہ شوگر کے مریض تھے. یزیدی لشکر کے کھانے اور پانی کی فراہمی روک دینے کی وجہ
سے وصال فرما چکے ہیں. مرحوم نے امیر اہلسنت یا قبلہ حسین الدین شاہ صاحب سے نماز جنازہ پڑھانے کی وصیت فرمائی ہے. نماز جنازہ کا اعلان جلد ہوگا اور ڈی چوک میں نمازہ جنازہ اور تدفین کی جائیگی . عشق مصطفی کا تقاضہ ہے کہ اس پیغام کو پورے عالم میں پھیلا دیں. ہم شہید ناموس رسالت محمد وقاص عطاری کو سلام پیش کرتے ہیں.
[4:51pm, 4/1/2016] +92 341 2300043: کیا ٹیکنالوجی عروج کی ضمانت ہے۔۔۔۔۔۔ ؟تحریر محمد اسمٰعیل بدایونی
ارے یہ جو تم آج زوال پذیر ہو جانتے ہو کیوں ہو ؟اس لیے کہ تم نے مغرب کو اپنا دشمن سمجھ لیا ہے۔۔۔۔۔تم نے سائنس و ٹیکنالوجی کو چھوڑ دیا بس مولویت کو سینےسے لگائے رہے۔۔۔۔۔ عقل سے کام لو سائنس و ٹیکنالوجی کے بغیر کوئی قوم جی نہیں سکتی یہ جو تصوف، تصوف کیے جارہے ہونا بس یہ ہے اس قوم کا مسئلہ حقیقی ۔۔۔۔اس مولویت سے جب تک جان نہیں چھڑاؤ گے تم کامیاب نہیں ہو گے ۔۔۔۔۔میری تقریر جاری تھی
سر ! میرا ایک سوال ؟ایک اسٹو ڈینٹ نے کھڑے ہو کر کہا
جی پوچھیے !میں نے ٹائی کی ناٹ درست کرتے ہوئے جواب دیا
سر ! میرا سوال یہ ہے کہ
آخر مو سیٰ علیہ السلام نے فرعون کو باوجود اس کے کہ وہ سائنس و ٹیکنالوجی رکھتا کیوں کر شکست دے دی ؟
آخر سائنس و ٹیکنالوجی میں اپنےوقت کے امام ہونے کے باوجود اندلس کے مسلمان کیوں زوال پذیر ہوئے ؟
آخر سائنس و ٹیکنالوجی میں اپنے وقت کا امام ہونے کے باوجود خلافت عباسیہ جاہل اجڈ تاتا ریوں سے کیوں شکست کھا گئی ؟
آخر وہ کون سی ٹیکنالوجی اور فلسفہ تھا کہ پچاس سال کے اند اندر مسلمان بغیر کسی مادی وسائل کے دوبارہ غالب آگئے چنگیز خان کے پوتے برقہ خان نے اسلام قبول کیا اور طاقت کا توازن بدل گیا ؟
آخر ترک ویانا میں داخل کیوں نہ ہوسکے جب کہ ترکوں کے پاس ٹیکنالوجی اور مادی وسائل یورپ سے کہیں زیادہ تھے؟
سر !آخر مغلیہ سلطنت چند ہزار انگریزوں سے کیسے شکست کھا گئی ؟جب کہ مغلیہ سلطنت کی طاقت ،ٹیکنالوجی انگریزوں سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں تھی ؟
آخر سائنس و ٹیکنالوجی میں اپنے وقت کا سرخ درندہ (روس)افغانستان میں کیوں ناکام ہوا؟
ترکی ، مصر ، ملایشیاء نے مغربی فکر اور تعلیم کو اپنا یا تو وہاں کیا ترقی ہوئی ؟ انہیں کیا عروج نصیب ہو گیا؟ مرسی اور سیسی کے حالیہ واقعات نے ساری قلعی کھول دی ہے اس نام نہاد جمہوریت اور عالمی غنڈہ گردی کی
سرسید احمد خان نے جو علی گڑھ یونیورسٹی قائم کی تھی کیا آج یورپ اس سے علم کشید کررہا ہے ؟کیا اس یونیورسٹی کے ذریعے مسلمان کامیاب ہو گئے ؟ کیا برصغیر کے مسلمانوں نے عروج حاصل کر لیا؟
سر !آخر وہ کونسی ٹیکنالوجی تھی جس نے میدان بدر میں اپنے سے تین گنا زیادہ بڑی طاقت جو اسلحہ سے مکمل لیس مادی لحاظ سے طاقت ور کیوں مسلمانوں سے شکست کھا گئی ؟
سر کیا وجہ تھی کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کو بغیر کسی سائنس و ٹیکنالوجی کے اپنے وقت کی سپر پاور ز قیصر و کسری سے ٹکرائے اور ان کو پاش پاش کر دیا؟
سر ! وہ کون سی طاقت تھی کہ مدینہ کے منبر پر امیر المؤمنین جمعہ کے خطبے کے دوران فرماتے یا ساریۃ الجبل(اے ساریہ پہاڑ کی طرف سے ہوشیار) اور حضرت ساریہ میلوں دور اس آواز کو سنتے اور حکمت عملی ترتیب دیتے اور بلآخر کامیاب ہوتے یہ کون سی طاقت تھی جس نے کامیاب کرایا ؟
سر! معذرت کے ساتھ ہمارے مفکرین گذشتہ دو سو سال سے صرف مغرب سے احساسِ کمتری کا شکار ہیں ہمیں وہ یہ درس دیتے ہیں کہ مغرب کو امام بنا لو
سر ! مغرب کی نقالی نے تو ہمیں تباہ کر دیا ہے بقول :میر تقی میرؔ
میر کیا سادہ ہیں کہ بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
میری پیشانی پر پسینے کےقطرے آرہے تھے جب کہ آڈیٹوریم اس لڑکے کے لیے کھڑے ہو کر تالیاں بجا رہاتھا۔
میں سوچ رہاتھا کہ کاش آج یہ دن دیکھنے کے لیے میں پیدا ہی نہیں ہوتا
سر ! آخری بات ۔تالیوں کی گونج کم ہوئی تو وہ دوبارہ شروع ہوا
سر ! اگر مغرب کو ہم نے اپنا امام بنایا تو یاد رکھیے گا! کچھ دنوں کے بعد یہاں بھی فادر ڈے کے موقع پر ڈی ۔این ۔اے موبائل کھڑی ہو گی اور تین سو ڈالر لے کر باپ کا پتہ بتائے گی کیوں کہ ان کی ماؤں کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا باپ کون ہے ؟
کنواری بیٹیوں کے جب اولاد ہو گی تو مغرب کی تہذیب و ثقافت کا پتہ چلے گا
سر! اس ٹیکنالوجی نے ان سے ان کا خاندان چھین لیا، ان سے ان کا سکون چھین لیا ، ان کی محبتیں اس ٹیکنالوجی کی بھینٹ چڑھ گئیں اور یہاں تک کہ ان سے ان کامذہب بھی چھین لیا آپ اس ٹیکنالوجی سے ہمیں کیا دینا چاہتے ہیں ؟
آڈیٹوریم تالیوں سے گونج رہا تھا
میرے لیے اسٹیج کی سیڑھیاں اترنا بہت مشکل ہو چکا تھا
[5:12pm, 4/1/2016] +92 334 2005008: الٰہی محبوب کل جہاں کو دل و جگر کا سلام پہنچے
نفس نفس کا درود پہنچے، نظر نظر کا سلام پہنچے
بساط عالم کی وسعتوں سے، جہان بالا کی رفعتوں سے
ملک ملک کا درود اترے، بشر بشر کا سلام پہنچے
زبان فطرت ہے اس پہ ناطق، ببارگاہ نبی صادق
شجر شجر کا درود جائے، حجر حجر کا سلام پہنچے
رسول رحمت کا بار احساں، تمام خلقت کے دوش پر ہے
تو ایسے محسن کو بستی بستی، نگر نگر کا سلام پہنچے
مرا قلم بھی ہے ان کا صدقہ، مرے ہنر پر ہے ان کا سایہ
حضور خواجہ ، مرے قلم کا ، مرے ہنر کا سلام پہنچے
یہ التجا ہے کہ روز محشر، گنہگاروں پہ بھی نظر ہو
شفیع امت کو ہم غریبوں کی چشم تر کا سلام پہنچے
نفیس کی بس دعا یہی ہے، فقیر کا اب صدا یہی ہے
سواد طیبہ میں رہنے والوں کو عمر بھر کا سلام پہنچے
ٰ
اللھم صل علی سیدنا ومولانا محمد وعلی آلہ وصحبہ وبارک وسلم
لگیاں نیں موجاں ہن لائی رکھیں سوہنیاں
چنگے آں کہ مندے آں نبھائی رکھیں سوہنیاں
صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَنَبِيِكَ وَرَسُولِكَ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ وَعَلَى آلِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيـَّتِهِ وَسَلِّمْ عَدَدَ خَلْقِكَ وَرِضَاءَ نَفْسِكَ وَزِنَةَ عَرْشِكَ وَمِدَادَ كَلِمَاتِكَ
[8:07pm, 4/1/2016] +92 334 2005008: بِسْــــــــــــــــــمِ اﷲِالرَّحْمَنِ اارَّحِيم
الصلواۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ
الصلواۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ
الصلواۃ والسلام علیک یا سیدی یا نُور اللہ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ
وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيد،
[8:18pm, 4/1/2016] +92 334 2005008: سلمیٰ بنت صخر مکان کے صحن میں اداس و غمزدہ بیٹھی گہری سوچوں میں مستغرق تھی۔ اتنے میں عثمان ابوقحافہ اندر داخل ہوا۔ بیوی کو افسردہ دیکھا تو قریب جاکر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر اس کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا پھر بولا ”ام الخیر کیا بات ہے“۔ ”تم میرے روگ کو بخوبی جانتے ہو، میں نے لات و عزیٰ کا کیا بگاڑا ہے جو میرے بچے زندہ نہیں رہتے“۔ اس کی آواز میں گہرا کرب نمایاں تھا۔ ”یہ تو ہمارے خدا ہی بہتر جانتے ہیں، کوئی کیا کہہ سکتا ہے“۔
عثمان ابوقحافہ بن عامر کا تعلق قریش کی معزز شاخ بنی تیم سے تھا جو شجاعت، سخاوت، مروت، بہادری اور ہمسایوں کی حمایت و حفاظت سے متصف تھی۔
عام الفیل کی ایک خوبصورت صبح تھی۔ ابوقحافہ کے گھر عورتوں کا جھمگٹا تھا کیونکہ آج اس کے ہاں ولادت ہونے والی تھی۔ ابوقحافہ باہر منتظر بیٹھا تھا کہ کسی نے آکر خبر دی کہ ”ابوقحافہ تمہیں بیٹے کی مبارک ہو“۔ وہ دوڑتا اندر گیا تو بیوی کے پہلو میں خوبصورت بچے کو دیکھ کر بے اختیار کہا ”یہ میرا بیٹا عبداللہ ہے“۔ بیوی نے کہا ”میں نے کعبے میں منت مانی تھی کہ بیٹا ہوا اور زندہ رہا تو عبدالکعبہ نام رکھوں گی“۔ ”یہ بھی کوئی نام ہے“ یہ کہا اور باہر نکل گیا۔
عبداللہ بن عثمان ابوقحافہ کو اپنے ہمجولیوں اور دوستوں میں انفرادیت و فوقیت حاصل تھی۔ اس کی غیر معمولی صفات و محاسن کو دیکھ کر ہر ایک یہ کہتا کہ یہ بچہ یقینًا جوان ہوکر ایک عظیم انسان بنے گا۔
وقت پر لگاکر اڑتا رہا۔ ایک دن سلمیٰ نے ابوقحافہ سے کہا کہ جب تو کعبہ جایا کرے تو کبھی کبھی بیٹے کو ساتھ لیجایا کر۔ ایک دن سوئے کعبہ جاتے ہوئے بیٹے کو دیکھا تو ساتھ لے لیا۔ راستہ میں عبداللہ نے ایک پتھر ہاتھ میں اٹھالیا۔ عثمان نے کہا ”بیٹا اسے پھینک دو، کعبہ میں پتھر نہیں لے جاتے“۔ ”اچھا تو اتنے پتھر کے بت جو کعبہ میں موجود ہیں“۔ عثمان ابوقحافہ لاجواب ہوگیا۔ ”اچھا اسے جیب میں ڈال لو“۔ لیکن جیب چھوٹی تھی پتھر بڑا، اس لیے ہاتھ میں ہی رہا۔ کعبہ میں پہنچ کر ابوقحافہ نے کہا ”بیٹے یہ ہمارے خدا ہیں انہیں سجدا کرو“۔ ”یہ ہمارے خدا ہیں“ عبداللہ نے حیرت و استعجاب سے کہا اور ہاتھ میں پکڑا ہوا پتھر ایک بڑے سے بت کو مارا جس سے اس کی ناک کا ٹکڑا اڑ گیا۔ ابوقحافہ بھونچکا رہ گیا۔ دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ عبداللہ نے کہا ”اگر یہ میرا خدا ہے تو اسے کہو میں بھوکا ہوں مجھے کھانا کھلائے، میں ننگا ہوں مجھے کپڑے پہنائے“۔ واپسی پر ابوقحافہ نے بیوی سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے بھی کہا کہ ”عبداللہ جب ابھی میرے شکم میں تھا تو مجھے آوازیں آتی تھیں کہ تجھے خوشخبری ہو اس آزاد بچے کی، اس کا لقب آسمانوں میں صدیق ہے جو رسول اللہ کا یار و رفیق ہوگا“۔ ابوقحافہ گہری سوچ میں پڑ گیا پھر کہا ”لگتا ہے یہ غیر معمولی بچہ ہے اس کا خیال رکھا کرو“۔
وقت گزرتا رہا۔ عبداللہ کی حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم سے بچپن سے دوستی تھی، لیکن اس میں بھی ادب کا پہلو نمایاں نظر آتا تھا، حالانکہ وہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم سے صرف ڈھائی سال چھوٹے تھے۔ عام الفیل میں جب حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم اپنے کفیل تایا حضرت زبیر بن عبدالمطلب کے ہمراہ تجارتی سفر پر ملک شام روانہ ہونے لگے تو فرمائش کرکے اپنے دوست عبداللہ کو بھی ساتھ لے لیا۔ بچپن میں عبداللہ اپنے اوصاف حمیدہ کی وجہ سے اپنے دوستوں میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ان میں اور نکھار پیدا ہوگیا۔ زمانۂ جاہلیت سے قبول اسلام تک بھی آپ کی حیات مبارکہ تمام اخلاق رذیلہ سے پاک نظر آتی ہے۔ کبھی شراب کو ہاتھ نہ لگایا، جوا کے قریب نہیں گئے۔
اٹھارہ سال کی عمر میں خواب میں دیکھا کہ آسمان کی وسعتوں میں چمکتا ہوا چاند ٹکڑے ٹکڑے ہوا اور مکہ کے ہر گھر میں اس کا ٹکڑا گرا۔ پھر تمام ٹکڑے یکجا ہوئے اور اس کے گھر میں آ گرے اس نے فورًا دروازہ بند کرلیا۔ عجیب و غریب خواب کی تعبیر مکے میں کوئی نہ بتاسکا۔ اسی دوران ملک شام جانا پڑا۔ راستے میں حورا کے کلیسا میں راہب سے تعبیر پوچھی۔ راہب نے پوچھا ”تم کون ہو؟“ ”میں قریشی ہوں“ عبداللہ نے جواب دیا۔ ”تمہارے درمیان پیغبر آخر الزمان آئے گا، ہر جگہ اس کا نور پہنچے گا اور تم اس کے وزیر ہوگے“۔ راہب نے جواب دیا تو عبداللہ نے اسی دن سے ٹھان لی کہ جونہی وہ نبی مبعوث ہوگا وہ فورًا اس پر ایمان لے آئے گا۔ زرقانی نے شرح مواہب میں لکھا ہے کہ ایک دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے حضرت حکیم بن حزام کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضرت حکیم رضی اللہ عنہ کی لونڈی ان کے پاس آئی اور کہا کہ آپ کی پھوپھی آج کہہ رہی تھیں کہ ان کے شوہر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نبی ہیں۔ یہ سن کر آپ اٹھے اور سیدھے نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور کہا ”اے ابو القاسم (صلّی اللہ علیہ وسلم) ہر نبی کے پاس نبوت کی کوئی دلیل و برہان ہوتی ہے، آپ کے پاس کیا دلیل ہے؟“ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم متبسم ہوئے اور فرمایا ”اے ابوبکر میری دلیل وہ خواب ہے جو تم نے دیکھا تھا“۔ یہ سننا تھا کہ فورًا بغیر کسی حیل و حجت کے ایمان لے آئے۔ خود نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ہر ایک نے اسلام قبول کرنے سے پہلے کچھ نہ کچھ تردد کیا لیکن ابوبکر نے جونہی سنا فورًا تسلیم کیا۔
وصال کے روز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلاکر انہیں فرمایا کہ ”مجھے امید ہے کہ آج میری زندگی ختم ہوجائیگی۔ اگر دن میں میرا دم نکلے تو شام سے پہلے اور اگر رات کو نکلے تو صبح سے پہلے مثنیٰ کے لیے کمک بھیج دینا۔ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ اس وقت عراق کے محاذ پر لڑ رہے تھے۔ پھر ان کو کچھ اور ہدایات دیں۔ دریافت فرمایا ”حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے کس روز رحلت فرمائی تھی“ لوگوں نے بتایا پیر کے روز۔ ارشاد فرمایا ”میری بھی یہی آرزو ہے کہ میں آج رخصت ہوجاؤں“۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا ”حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں کا کفن دیا گیا تھا؟“ عرض کیا تین کپڑوں کا۔ فرمایا میری کفن میں بھی اتنے کپڑے ہوں۔ دو یہ چادریں جو میرے بدن پر ہیں دھولی جائیں اور ایک کپڑا بنالیا جائے۔ آخری الفاظ یہ تھے ”اے اللہ مجھے مسلمان اٹھا اور اپنے نیک بندوں میں شامل کر“۔ جب روح اقدس نے پرواز کی تو 22 جمادی الآخر 13ھ تاریخ، پیر کا دن، عشاء مغرب کا درمیانی وقت، عمر اقدس 63 سال تھی۔ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت اسماء بن عمیس رضی اللہ عنہا نے غسل دیا۔ حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہم جسم اطہر پر پانی بہاتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ وصیت کے مطابق حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف دفن کیے گئے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
[12:22am, 4/3/2016] +92 334 2005008: عشق یہ ھے کہ تیرے وجود کا ایک ایک حصہ کاٹ دیا جائے اور تیری زبان سے اف تک نہ نکلے جیسا کہ حضور شاہ منصور کو جب سولی دینے سے پہلے آپ کے بازو کاٹے گئے تو اپ نے بازو کا خون اپنے چہرے پر ملا لوگوں نے پو چھا کہ ایسا کیوںکیا شاہ منصور نے جواب دیا خون بہنے سے چہرہ زرد ھو گیا کوئی یہ نہ سمجھے کہ موت کے خوف سے چہرہ زرد ھو گیا اس لئے چہرے پر خون ملا ھے
عاشق ہوویں تے عشق کماویں دل رکھیں وانگ پہاڑاں ھُو
لکھ لکھ بدیاں تے ہزار اُلاہمے کر جانیں باغ بہاراں ھُو
منصور جیہے چک سولی دِتّے جیہڑے واقف کُل اسراراں ھٗو
سجدیوں سِر نہ چائیے باھُو توڑے کافر کہن ہزاراں ھُو
عرفان
[4:36pm, 4/3/2016] +92 332 2224761: Gulshan bhai ki multan aamd mngl k roz baad nmaz ishaaa
[6:56pm, 4/3/2016] +92 333 7844556: Gulshan shah sahib apne khasusi secretry Muzamil sab k hamrah multan jaen gen. Inshallah.
[11:39am, 4/4/2016] +92 314 3166799: Allah pak ap k safar ko qabool farmay
[5:39pm, 4/4/2016] +92 333 7163295: عشق یہ ھے کہ تیرے وجود کا ایک ایک حصہ کاٹ دیا جائے اور تیری زبان سے اف تک نہ نکلے جیسا کہ حضور شاہ منصور کو جب سولی دینے سے پہلے آپ کے بازو کاٹے گئے تو اپ نے بازو کا خون اپنے چہرے پر ملا لوگوں نے پو چھا کہ ایسا کیوںکیا شاہ منصور نے جواب دیا خون بہنے سے چہرہ زرد ھو گیا کوئی یہ نہ سمجھے کہ موت کے خوف سے چہرہ زرد ھو گیا اس لئے چہرے پر خون ملا ھے
عاشق ہوویں تے عشق کماویں دل رکھیں وانگ پہاڑاں ھُو
لکھ لکھ بدیاں تے ہزار اُلاہمے کر جانیں باغ بہاراں ھُو
منصور جیہے چک سولی دِتّے جیہڑے واقف کُل اسراراں ھٗو
سجدیوں سِر نہ چائیے باھُو توڑے کافر کہن ہزاراں ھُو
عرفان
[6:56pm, 4/4/2016] +92 334 2005008: دلوں کی خرابی زمانہ و اہل زمانہ کی خرابی کے مطابق ہوتی ہے۔
حضرت علی بن بنداصیرنی رحمتہ اللہ علیہ
(کشف المحجوب)
[12:59am, 4/5/2016] +92 333 7844556: Ye nat mukamil janab Gulshan shah sahib ke pass hai.
[11:41am, 4/5/2016] +92 334 2005008: نصیر دستِ طلب کے کنم بہ خلق دراز
من التجا بہ خداوندِ لایزال کنم
سید نصیر الدین نصیر
اے نصیر، میں (فانی اور زوال پذیر) لوگوں کے سامنے اپنا دستِ طلب کیا دراز کروں؟ میں تو جاوید و لازوال و لایزال خدا ہی سے التجا کرتا ہوں۔
[9:59pm, 4/5/2016] +92 334 1388858: ✅ Hello, I. Am john Sam director of whatsapp, this message is to inform all of our users that we have sold whatsapp to Mark Zuckerberg for 19 billion $. WhatsApp is now controlled by mark zuckerberg. If you have at least 10 contacts send this sms and logo of your whatsapp will change to a new icon with facebook's "f" within 24 hours.
Forward this message to more than 10 people to activate your new whatsapp with facebook services or else your account will be deleted from new servers.
Confirming this is the new icon WhatsApp ☑ ®
Send it to all your contacts to update the application
♻send this to 10 people
To activate the new whatsapp.
✳
Message from Jim Balsamic (CEO of Whatsapp) we have had an over usage of user names on whatsapp Messenger. We are requesting all users to forward this message to their entire contact list. If you do not forward this message, we will take it as your account is invalid and it will be deleted within the next 48 hours. Please DO NOT ignore this message or whatsapp will no longer recognise your activation. If you wish to re-activate your account after it has been deleted, a charge of 25.00 will be added to your monthly bill. We are also aware of the issue involving the pictures updates not showing. We are working diligently at fixing this problem and it will be up and running as soon as possible. Thank you for your cooperation from the team WhatsApp is going to cost us money soon. The only way that it will stay free is if you are a frequent user i.e. you have at least 10 people you are chatting with. To become a frequent user
send this message to 10 people who receive it (2 ticks) and your WhatsApp logo will change color. ✳
send this to 8 people to activate the new whatsapp ✔✔
[10:21pm, 4/5/2016] +92 334 2005008: اپنے غصے پر قابو پانا سیکھ لو کیونکہ سارے فساد کی جڑ غصے سے کی ہوئی بد کلامی ہوتی ہے جو کہ آپکے رشتہ دار یا دوست یا کوئی رشتہ کیوں نہ ہو اس میں نفرتیں پیدا کردیتی ہے۔اللہ اور اس کے نبی نے بھی یہی پیغام دیا کہ غصہ نہ کیا کرو بلکہ عاجزی سے کام لیا کرو اور درگزر کیا کرو۔
[10:16am, 4/6/2016] +92 334 2005008: حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
اللہ تعالیٰ اپنے غضب اور اولیاء کے غضب سے بچائے وہ جس طرح نسبت عطا کرنے پر قدرت رکھتے ہیں اسی طرح نسبت سلب بھی کر سکتے ہیں ۔
[10:47am, 4/6/2016] +92 334 2005008: نجس پلید جیفہ مردار دنیا کی بدبو اور شیطان کافر کی یہ مجال نہیں کہ وہ مجلس محمدیؐ اور بہشت وکعبہ اور مرینہ مبارک میں داخل ہو سکے۔ شیطان کو یہ قدرت حاصل نہیں کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت ، قرآن و حروف کی صورت ، سورج و چاند کی صورت، کعبہ ومدینہ کی صورت ، اصحاب کبارؒ کی صورت اور شاہ محی الدین پیردستگیرؒ کی صورت اختیارکر سکے۔ وہ ان صورتوں میں ہرگز نہیں آسکتا کہ یہ صورتیں غلباتِ ہدایت ہیں۔
امیر الکونین، ص : 69، حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ
www.alfaqr.net
[11:47am, 4/6/2016] +92 333 3610053: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ
.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ
.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
[12:20am, 4/7/2016] +92 314 3166799: بے نقط نعت شریف
اگر رسول ہدٰی کا کلمہ مدام وردِ عام ہوگا
کرم کا معمول عام ہوگا ہر اِک دو عالم کا کام ہوگا
اگر محمد کا دل کو سودا اصولِ رسمِ عوام ہوگا
اِدھر درود و سلام ہوگا اُدھر درود و سلام ہوگا
اِدھر ہمارے عمل مکمل اصولِ اسلام حمدِ داور
رہا اُدھر کا معاملہ وہ رسولِ اکرم کا کام ہوگا
محل کو مدِ مراد رکھ کر عمل کو مدِ مراد رکھ کر
دمِ سوال مآلِ آدم سلوک مولا کا عام ہوگا
گواہ اللہ ہر دو عالم اور اس کا ہر اِک وہ حکم محکم
گر اسم احمد کا ورد ہوگا کرم احد کا مدام ہوگا
عطا و عدل و ہدا مکرر علوم سر علٰی سراسر
ہر اک کا ہوگا اگر وہ مصدر رسول ہوگا امام ہوگا
طلوع طالع ہوا ہمارا درِ محمد کھلا وہ آؤ
ملک کا دورہ مدام ہوگا کلامِ محمود عام ہوگا
دراصل مدحِ رسولِ اکرم مع اک درود سلام اسلم
طرح طرح کا کلام و کلمہ سدا ہوا اور دوام ہوگا
عدوِ آلِ رسول ہوگا اگر دل اس کا گواہ عادل
گو لاکھ صالح عمل رہا ہو حلال سودا حرام ہوگا
اِلہٰ العالم کا حکم ہوگا ہمارا کلمہ کلام سارا
اگر محمد رسول ہوگا اگر محمد امام ہوگا
سوال علامہ آؤ کرلو ہوا رسول ہدٰی کا در وا
درِ محمد کا ہر گدا اک اُدھر مدارالمہام ہوگا
( ظفر اورنگ آبادی ، علامہ )
[10:33am, 4/7/2016] +92 334 2005008: Masha allah
[11:14am, 4/7/2016] +92 334 2005008: خدا یکی یکی رابجو
بایکی یک شوی چوں عین او
بیت باھو:۔ خدا ایک ہے، دل بھی ایک ہے، اُس ایک کو ڈھونڈ اور اُس کے ساتھ مل کرایک ہوجاتاکہ عین وہی ایک رہ جائے۔"
عین الفقر:ص 133،حضرت سلطان باھورحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ
[11:30am, 4/7/2016] +92 334 2005008: ایں ذکر باشد حضوری از خدا
بیحضوری نیست ذکرش خود نما
بیت:۔ذکر وہ ہے کہ جس سے بارگاہِ خداوندی کی حضوری حاصل ہو۔جس ذکر سے حضوری نصیب نہ ہووہ ذکر نہیں بلکہ شغلِ خود نمائی ہے۔
نورالہدی:ص571،حضرت سلطان باھورحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ
[1:18pm, 4/7/2016] +92 334 2005008: زِندگانی نیست تکرارِ نفس
اصلِ اُو از حیّ و قیوم است و بس!
قربِ جاں باآنکہ گفت اِنِّی قَرِیْب
از حیاتِ جاوداں بردن نصیب!
زندگی سانسوں کے بار بار آنے کا نام نہیں ہے۔ اِس کی اصل تو «حیّ و قیوم» سے ہے۔ اُس ذاتِ حق سے قُرب پیدا کرنا جِس کا فرمان ہے کہ «اے بندے میں تیرے قریب ہوں» ہمیشہ کی زندگی، حیاتِ جاوید پانا ہے۔
علامہ اقبالؒ– جاوید نامہ
[1:36pm, 4/7/2016] +92 334 2005008: تاجدارِ حرم اے شہنشاہِ دیں
تم پہ ھردم کروڑوں درود و سلام
ھو نگاہ کرم ھم پہ سلطان دیں
تمُ پہ ھر دم کروڑوں درود و سلام
دور رہ کر نہ دم ٹوٹ جاۓ کہیں
کاش طیبہ مین اے میرے ماہ مبین
دفن ھونے کو مل جاۓ دوگز زمین
تم پہ ھردم کروڑوں درود وسلام
کوئی حسن عمل پاس میرے نہیں
پھنس نہ جاؤں قیامت میں مولا کہیں
اے شفیع امم لاج رکھنا تمہی
تم پہ ھر دم کروڙوں درود و سلام
موت کے وقت کر دو نگاہ کرم
کاش اس شان سے یہ نکل جاۓ دم
سنگ در پہ تمہارے ھو میری جبیں
تم پہ ھردم کروڑوں درود و سلام
اب مدینے میں سب کو بلا لیجیئے
اور سینہ مدینہ بنا دیجیئے
بہر غوث الوراء اے امام مبیں
تم پہ ھردم کروڑوں درود و سلام
پھر بلالو مدینے میں عطار کو
یہ تڑپتا ھے طیبہ کے دیدار کو
کوئی اس کے سوا آرزو ھی نہیں
تم پہ ھر دم کروڑوں درود و سلام
💜🌸♥🌷 قَلَّتْ حِيْلَتِىْ أنْتَ وَسِيْلَتِىْ أدْرِكنىْ يَا رَسُوْلَ الله🌸♥🌷💜ِ
💜🌸♥🌷 جزی اللہ عنا سیدنا محمد(صلی الله علیه وآله وسلم) ما هوا اهله🌸♥🌷
[1:37pm, 4/7/2016] +92 312 3715542: Subhan allah
[3:15pm, 4/7/2016] +92 334 2005008: کیا آپ "یاجوج ماجوج" کے بارے میں کچھ دلچسپ و عجیب جاننا چاہتے ہیں جن کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی آیا ہے جن کو حضرت ذوالقرنین نے ایک دیوار کے پیچھے قید کردیا ہوا ہے، لیکن وہ نکلیں گے۔کیسے اور کب ؟ جانئیے ان کے متعلق کچھ دلچسپ و عجیب
یاجوج و ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں۔ یہ انسانی نسل کے دو بڑے وحشی قبیلے گزر چکے ہیں جو اپنے اِرد گرد رہنے والوں پر بہت ظلم اور زیادتیاں کرتے اور انسانی بستیاں تک تاراج کر دیتے تھے۔ قرآن مجید کی آیات، توریت کے مطالب اور تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ شمال مشرقی ایشیا میں زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے وحشیانہ حملوں کے نتیجہ میں ایشیا کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں مصیبت برپا کرتے تھے۔ بعض تاریخ دانوں نے ان کے رہائشی علاقے کو ماسکو اور توبل سیک کے آس پاس بتلایا ہے اور بعض کا خیال ہے کہ یاجوج و ماجوج کے شہر تبت اور چین سے بحرمنجمد شمالی تک اور مغرب میں ترکستان تک پھیلے ہوئے تھے۔
حضرت ذوالقرنین کے زمانے میں یاجوج و ماجوج کے حملے وبال جان بن گئے تھے، ان کی روک تھام کیلئے ذوالقرنین نے پہاڑوں کے مابین اونچی اور مضبوط سد (دیوار) تعمیر فرمائی۔ ذوالقرنین اور سدِ ذوالقرنین کا ذکر قرآن کریم کی سورة الکہف میں موجود ہے۔
جس ذوالقرنین کا قرآن میں ذکر ہے، تاریخی طور پر وہ کون شخص ہے، تاریخ کی مشہور شخصیتوں میں یہ داستان کس پر منطبق ہوتی ہے، اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ تاریخ کی کتابوں کے مطالعے کے بعد لوگوں نے ذوالقرنین کی شخصیت اور سدِ ذوالقرنین سے متعلق مختلف اندازے لگائے ہیں۔ بہت سے قدیم علماء اور مفکر سکندرِ اعظم کو ہی ذوالقرنین مانتے ہیں مگر بعض اس کا انکار کرکے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ذوالقرنین دراصل حضرت سلیمان علیہ السلام کا خطاب تھا۔ جدید زمانے کے کچھ مفسر و مفکر ذوالقرنین کو قدیم ایرانی بادشاہ سائرس اعظم (کورش اعظم)کا دوسرا نام قرار دیتے ہیں اور یہ نسبتاً زیادہ قرین قیاس ہے، مگر بہرحال ابھی تک یقین کے ساتھ کسی شخصیت کو اس کا مصداق نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
ذوالقرنین کی بابت قرآن نے صراحت کی ہے کہ وہ ایسا حکمران تھا جس کو اللہ نے اسباب و وسائل کی فروانی سے نوازا تھا۔ وہ مشرقی اور مغربی ممالک کو فتح کرتا ہوا ایک ایسے پہاڑی درّے پر پہنچا جس کی دوسری طرف یاجوج اور ماجوج تھے۔ قرآن کریم کی سورة کہف میں بحوالہ یاجوج ماجوج ذوالقرنین کے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جب وہ اپنی شمالی مہم کے دوران سو دیواروں (پہاڑوں) کے درمیان پہنچا تو وہاں اسے ایسی قوم ملی جس کی زبان ناقابل فہم تھی تاہم جب ترجمان کے ذریعے گفتگو ہوئی تو انہوں نے عرض کیا کہ یاجوج ماجوج اس سرزمین پر فساد پھیلاتے ہیں لہٰذا تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک سد (دیوار) تعمیر کر دے۔ چنانچہ پھر یہ تفصیل ہے۔
کس طرح ذوالقرنین نے اُس قوم کو یاجوج ماجوج کی یلغار سے بچانے کیلئے دیوار بنائی اور جو دیوار بنائی گئی وہ کوئی خیالی اور معنوی نہیں بلکہ حقیقی اور حسی ہے جو کہ لوہے اور پگھلے ہوئے تانبے سے بنائی گئی تھی جس سے وقتی طور پر یاجوج ماجوج کا فتنہ دب گیا۔ جب یہ دیوار تعمیر ہو گئی تو ذوالقرنین نے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے یہ دیوار بنانے اور لوگوں کو آئے دن کی پریشانیوں سے نجات دلانے کی توفیق بخشی مگر ساتھ ہی لوگوں کو یہ بھی بتا دیا کہ یہ دیوار اگرچہ بہت مضبوط اور مستحکم ہے مگر یہ لازوال نہیں جو چیز بھی بنی ہے بالآخر فنا ہونے والی ہے اور جب میرے رب کے وعدے کا وقت قریب آئیگا تو وہ اس کو پیوندخاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ رہی یہ بات کہ سدِ ذوالقرنین کہاں واقع ہے؟
تو اس میں بھی اختلافات ہیں کیونکہ آج تک ایسی پانچ دیواریں معلوم ہو چکی ہیں جو مختلف بادشاہوں نے مختلف علاقوں میں مختلف ادوار میں جنگجو قوموں کے حملوں سے بچائو کی خاطر بنوائی تھیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ مشہور دیوارِ چین ہے جس کی لمبائی کا اندازہ بارہ سو میل سے لے کر پندرہ سو میل تک کیا گیا ہے اور اب تک موجود ہے لیکن واضح رہے کہ دیوارِ چین لوہے اور تابنے سے بنی ہوئی نہیں ہے اور نہ وہ کسی چھوٹے کوہستانی درّے میں ہے ، وہ ایک عام مصالحے سے بنی ہوئی دیوار ہے۔ بعض کا اصرار ہے کہ یہ وہی دیوار ”مارب” ہے کہ جو یمن میں ہے، یہ ٹھیک ہے کہ دیوارِ مارب ایک کوہستانی درے میں بنائی گئی ہے لیکن وہ سیلاب کو روکنے کیلئے اور پانی ذخیرہ کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ہے۔
ویسے بھی وہ لوہے اور تانبے سے بنی ہوئی نہیں ہے جبکہ علماء و محققین کی گواہی کے مطابق سرزمین ”قفقاز” میں دریائے خزر اور دریائے سیاہ کے درمیان پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے کہ جو ایک دیوار کی طرح شمال اور جنوب کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔ اس میں ایک دیوار کی طرح کا درّہ بھی موجود ہے جو مشہور درّہ ”داریال” ہے۔ یہاں اب تک ایک قدیم تاریخی لوہے کی دیوار نظر آتی ہے، اسی بناء پر بہت سے لوگوں کا نظریہ ہے کہ دیوارِ ذوالقرنین یہی ہے۔ اگرچہ سدِ ذوالقرنین بڑی مضبوط بنا ئی گئی ہے جس کے اوپر چڑھ کر یا اس میں سوراخ کرکے یاجوج ماجوج کا اِدھر آنا ممکن نہیں لیکن جب اللہ کا وعدہ پورا ہوگا تو وہ اسے ریزہ ریزہ کرکے زمین کے برابر کر دے گا، اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کا ظہور ہے۔
صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضور نبی کریمﷺنے اس دیوار میں تھوڑے سے سوراخ کو فتنے کے قریب ہونے سے تعبیر فرمایا۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ یاجوج ماجوج ہر روز اس دیوار کو کھودتے ہیں اور پھر کل کیلئے چھوڑ دیتے ہیں لیکن جب اللہ کی مشیات ان کے خروج کی ہوگی تو پھر وہ کہیں گے کل اِن شاء اللہ اس کو کھودیں گے اور پھر دوسرے دن وہ اس سے نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور زمین میں فساد پھیلائیں گے یعنی انسانوں کو بھی کھانے سے گریز نہیں کرینگے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوگا کہ وہ مسلمانوں کو طور کی طرف جمع کرلے کیونکہ یاجوج ماجوج کا مقابلہ کسی کے بس میں نہ ہوگا۔
حضرت عیسیٰ اور ان کے ساتھی اس وقت ایسی جگہ کھڑے ہوں گے جہاں غذا کی سخت قلت ہوگی پھر لوگوں کی درخواست پر حضرت عیسیٰ یاجوج ماجوج کیلئے بددعا فرمائیں گے پس اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں اور کانوں میں کیڑا پیدا کر دے گا جو بعد میں پھوڑا بن جائے گاجس کے پھٹنے سے یہ ہلاک ہونا شروع ہو جائیں گے ۔ سب سے سب مر جائیں گے ، ان کی لاشوں سے ایک بالشت زمین بھی خالی نہ ہوگی اور ہر طرف ان کی لاشوں کی گندی بو پھیل جائے گی ، پھر عیسیٰ ابن مریم دعا کریں گے تو اللہ جل و شانہ اونٹ کی گردن برابر پرندے بھیجیں گے جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر جانے کہاں پھینک دینگے ، پھر ایک بارش ہوگی جس سے کل زمین صاف شفاف ہو جائے گی اور ہر طرف ہریالی و خوشحالی ہوگی۔
صحیح مسلم میں نواس بن سمعان کی روایت میں صراحت ہے کہ یاجوج ماجوج کا ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ان کی موجودگی میں ہوگا، جس سے ان مفسرین کی تردید ہو جاتی ہے، جو کہتے ہیں کہ تاتاریوں کا مسلمانوں پر حملہ یا منگول ترک جن میں سے چنگیز بھی تھا یا روسی اور چینی قومیں یہی یاجوج و ماجوج ہیں، جن کا ظہور ہو چکا یا مغربی قومیں ان کا مصداق ہیں کہ پوری دنیا میں ان کا غلبہ و تسلط ہے۔ یہ سب باتیں غلط ہیں، کیونکہ یاجوج و ماجوج کے غلبے سے سیاسی غلبہ مراد نہیں ہے بلکہ قتل و غارت گری اور شر و فساد کا وہ عارضی غلبہ ہے جس کا مقابلہ کرنے کی طاقت مسلمانوں میں نہیں ہوگی، تاہم پھر وبائی مرض سے سب کے سب آن واحد میں لقمہ اجل بن جائیں گے۔
[6:32pm, 4/7/2016] +92 333 7554330: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک اعرابی آیا جس جس کے پاس ایک گوہ تھی۔ وہ کہنے لگا مجھے لات و عزیٰ کی قسم! اے محمد! میں تجھ پر اس وقت تک ایمان نہ لاؤں گا جب تک کہ یہ گوہ تمھاری صداقت کی گواہی نہ دے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا لو سنو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ سے مخاطب ہو کر فرمایا اے گوہ! بول! گوہ سنتے ہی بول اٹھی لبیک یا رسول رب العالمین۔ حضور نے فرمایا تم کس کی عبادت کرتی ہو۔ گوہ نے جواب دیا : اس کی عبادت کرتی ہوں آسمانوں میں جس کا عرش ہے اور زمین میں جس کی حکومت ہے اور دریا جس کا راستہ ہے اور جنت میں جس کی رحمت ہے اور دوزخ میں جس کا عذاب ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کون ہوں وہ بولی : آپ رب العالمین کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں۔ جس نے آپ کو پہچان لیا وہ نجات پا گیا اور جس نے آپ کو نہ مانا وہ نقصان پا گیا ۔
اعرابی گوہ کی گواہی سن کر فوراََ مسلمان ہو گیا ۔
(حجتہ اللہ ص ۴۶۵)
[9:20pm, 4/7/2016] +92 334 1388858: Nice dear
[12:27am, 4/8/2016] +92 334 2005008: آزادی
بھیڑیوں نے بکریوں کے حق میں جلوس نکالا کہ بکریوں کو آزادی دو بکریوں کے حقوق مارے جا رہے ہیں انہیں گھروں میں قید کر رکھا گیا ہے ایک بکری نے جب یہ آواز سنی تو دوسری بکریوں سے کہا کہ سنو سنو ہمارے حق میں جلوس نکالے جا رہے ہیں چلو ہم بھی نکلتے ہیں اور اپنے حقوق کی آواز اٹھاتے ہیں
ایک بوڑھی بکری بولی بیٹی ہوش کے ناخن لو یہ بھیڑئے ہمارے دشمن ہیں ان کی باتوں میں مت آو
مگر نوجوان بکریوں نے اس کی بات نہ مانی کہ جی آپ کا زمانہ اور تھا یہ جدید دور ہے اب کوئی کسی کے حقوق نہیں چھین سکتا یہ بھیڑئے ہمارے دشمن کیسے یہ تو ہمارے حقوق کی بات کر رہے ہیں
بوڑھی بکری سن کر بولی بیٹا یہ تمہیں برباد کرنا چاہتے ہیں ابھی تم محفوظ ہو اگر ان کی باتوں میں آگئی تو یہ تمہیں چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے
بوڑھی بکری کی یہ بات سن کر جوان بکری غصے میں آگئی اور کہنے لگی کہ اماں تم تو بوڑھی ہوچکی اب ہمیں ہماری زندگی جینے دو تمہیں کیا پتہ آزادی کیا ہوتی ہے باہر خوبصورت کھیت ہونگے ہرے بھرے باغ ہونگے ہر طرف ہریالی ہوگی خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو اب ہم مزید یہ قید برداشت نہیں کرسکتیں یہ کہ کر سب آزادی آزادی کے نعرے لگانے لگیں اور بھوک ہڑتال کردی ریوڑ کے مالک نے جب یہ صورتحال دیکھی تو مجبورا انہیں کھول کر آزاد کردیا بکریاں بہت خوش ہوئیں اور نعرے لگاتی چھلانگیں مارتی نکل بھاگیں
مگر یہ کیا؟؟؟؟ بھیڑئیوں نے تو ان پر حملہ کردیا اور معصوم بکریوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا
آج عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والے درحقیقت عورتوں تک پہنچنے کی آزادی چاہ رہے ہیں یہ ان معصوموں کے خون کے پیاسے ہیں انہیں عورتوں کے حقوق کی نہیں اپنی غلیظ پیاس کی فکر ہے کاش کہ کوئی سمجھے!!!!!!!
[11:07am, 4/9/2016] +92 334 2005008: Rasool bux bhai
[11:09am, 4/9/2016] +92 334 2005008: نہ کوئی اس کا مشابہ ہے نہ ہمسر نہ نظیر
نہ کوئی اس کا مماثل ہے نہ مقابل نہ بدل
اوج رفعت کا قمر نخل دو عالم کا ثمر
اوج رفعت کا قمر نخل دو عالم کا ثمر
بحر وحدت کا گہر چشمہء کثرت کا کنول
سرخی نسخہء وحدت تھی یہ روز اول
کہ نہ احمد ﷺ کا ہے آخر نہ احد کا اول
افضیلت پہ تیری مشتمل آثار کتب
اولیت پہ تیری متفق ادیان وملل
ہے تمنا کہ رہے نعت سے تیری خالی
نہ میرا شعر نہ قطعہ نہ قصیدہ نہ غزل
[2:25pm, 4/9/2016] Muhammad Ashraf: Bashak aisa he hay
[7:51pm, 4/9/2016] +92 334 2005008: نفس کی آفت طمع ہے۔ نفس و طمع آدمی سے جدا نہیں ہوتے جب تک کہ وہ ترک و توکل اختیار نہ کرے اور ترک و توکل حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ دل میں دردِ داغِ محبتِ مولیٰ یدا نہ ہو اور دردِ داغِ مولیٰ پیدا نہیں ہوتا جب کہ کلمہ طیب کا ذکر نہ کیا جائے۔
محک الفقر،ص : 63، حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ
[8:13pm, 4/9/2016] +92 334 2005008: امام سمنونؒ سے محبت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اخلاص کے ساتھ محبوب کے ذکر میں مشغول رہنا محبت ہے - اللہ تعالی نے فرمایا اے ایمان والوں تم اللہ کا ذکر کثرت سے کرو -
اور حضورﷺ کا فرمان ہے جو جس شے محبت کرتا ہے اس کا کثرت سے ذکر کرتا ہے-
[10:08am, 4/10/2016] +92 334 2005008: امام شافعی رحمتہ اللہ فرماتے ہے کہ میں امام مالک رحمتہ اللہ کو ڈھونڈنے مسجد نبوی میں داخل ہوا تو سامنے ہی ایک اونچے قد والا انسان شاگردوں کو حدیث کی درس دیں رہا تھا، میں سمجھ گیا کہ یہی امام مالک ہے اس وقت امام صاحب شاگردوں کو ساتھ ساتھ املاء بھی کرارہے تھے تمام شاگرد حدیث پاک سن کر لکھ رہے تھے میں چونکہ مسافر تھا میرے پاس لکھنے کے لیے کچھ بھی نہ تھا، قریب ہی ایک تنکا پڑا ہوا تھا میں نے وہ اٹھایا اور تنکے سے ہاتھ کی ہتھیلی پر لکھنا شروع... کیا،جب نماز کا وقت ہوا تو امام صاحب نے درس حدیث موقوف کردی۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کی نظریں مجھ پر پڑی تو پوچھا بھئ یہ کیا کررہے ہو آپ۔ میں نے کہا میں اپنی ہتھیلی پر حدیث لکھ رہا ہوں، انہوں نے ہاتھ دیکھا تو کچھ بھی نہ تھا، فرمایا حضرت حلاف ادب کام ہے یہ، میں نے کہا حضرت میرے پاس قلم نہ تھی تنکا تھا میں ہتھیلی پر نہیں دراصل دل پر لکھ رہا تھا اور حدیث والوں کے ساتھ بیٹھ کر اسلیئے لکھنا شروع کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " جو جس قوم کی مشابہت اختیار کریں گا تو وہ ان میں ہی شمار ہوگا،" امام مالک نے کہا سبحان اللہ ۔ اچھا تو کچھ یاد بھی ہے؟ امام شافعی رحمتہ اللہ کہتے ہے کہ میں نے کہا حضرت جو درس آپ نے دیا سب یاد ہے۔ امام مالک نے فرمایا ہم نے ایک سو سے زیادہ حدیثں املاء کرائی ہے ان میں آدھی بھی تم سنا دو تو بہت اچھی بات ہوگی" امام شافعی کا فرمان ہے کہ امام مالک نے تو آدھی احادیث کہی میں نے ایک نمبر سے لیکر آخری حدیث تک متن اور سند سمیت سنا دی۔"
بحوالہ خطبات فقیر جلد 11 ص نمبر 198
[10:19am, 4/10/2016] +92 334 2005008: به محشر گر ز تو پرسند خسرو را چرا کشتی
سرت گردم چه خواهی گفت تا من هم همان گویم
(امیر خسرو دهلوی)
اگر محشر میں تم سے پوچھیں کہ تم نے خسرو کو کیوں قتل کیا؟ تو میں تم پر قربان جاؤں، (مجھے بتاؤ) کہ تم کیا کہو گے تاکہ میں بھی وہی کہوں۔
[10:50am, 4/10/2016] Muhammad Ashraf: Thanks Shah G
[12:47pm, 4/10/2016] +92 314 5866607: ﻗﻠﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﺫﺍﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﺳﺮﻭﺩِ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﻻﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﺳﮑﻮﻥِ ﻗﻠﺐ ﺗﭙﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﺩﻭﺍﺋﮯ ﺩﺭﺩِ ﻧﮩﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﻓﺮﻭﻍِ ﮐﻮﻥ ﻭ ﻣﮑﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﺗﺠﻠﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﻗﺮﺍﺭِ ﻣﺎﮦ ﻭ ﺷﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﭘﻨﺎﮦِ ﮔﻠﺒﺪﻧﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﮨﮯ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯِ ﺧﺰﺍﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﺑﮩﺎﺭِ ﺑﺎﻍِ ﺟﻨﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﺑﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﮮ ﮔﺎ ﺍﻣﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﺑﻨﺎ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﺟﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮨﮯ ﺟﻠﻮﮦ ﻓﺸﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﻭﺟﻮﺩِ ﻏﯿﺮ ﮐﮩﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﻏﺮﯾﺐِ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻧﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ
ﻓﻘﯿﺮ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺑﯿﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﺘﮧ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﮨﻮ
ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺸﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﺟﻨﻮﮞ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﺫﺍﺕِ ﺫﻭﺍﻟﺠﻼﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ
ﺧﺮﺩ ﮨﮯ ﻭﮨﻢ ﻭﮔﻤﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﻧﻈﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﻤﻮﺩِ ﺣﯿﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﭨﻮﭨﮯ
ﭘﮑﺎﺭ ﺯﻣﺰﻣﮧ ﺧﻮﺍﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺗﻮ ﺑﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺒﯿﮟ ﮨﮯ ﺧﺎﮎ ﺁﻟﻮﺩ
ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺭﺩِ ﺯﺑﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﻐﻤﮧ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﻻﺷﺮﯾﮏ ﻟﮧ
ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﺎﺏ ﻭﺗﻮﺍﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﺍﺳﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﮨﮯ ﺭﻧﮕﯿﮟ
ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺤﺮ ﮐﯽ ﺍﺫﺍﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﻭﮨﯿﮟ ﺟﻤﺎﻝِ ﺭﺥِ ﯾﺎﺭ ﮐﯽ ﺗﺠﻠﯽ ﮨﮯ
ﺟﮩﺎﮞ ﮦ ﻭﺟﺪ ﮐﻨﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
ﺑﮩﺎ ﮐﮯ ﺁﺝ ﻟﯿﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﻣﻈﮩﺮ ﮐﻮ
ﺑﺮﻧﮓ ﺳﯿﻞ ﺭﻭﺍﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ —
[4:22pm, 4/10/2016] +92 334 2005008: سورۃ الزلزال (مدنی، آیات 8)
اس سورت کا دوسرا نام سورہ زلزلہ ہے کیونکہ پہلی آیت میں لفظ زلزال آیا ہے۔
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَـهَا (1)
جب زمین بڑے زور سے ہلا دی جائے گی۔
وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَـهَا (2)
اور زمین اپنے بوجھ نکال پھینکے گی۔
وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَـهَا (3)
اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوگیا۔
يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا (4)
اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔
بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَـهَا (5)
اس لیے کہ آپ کا رب اس کو حکم دے گا۔
يَوْمَئِذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا لِّيُـرَوْا اَعْمَالَـهُمْ (6)
اس دن لوگ مختلف حالتوں میں لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔
فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْـرًا يَّرَهٝ (7)
پھر جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا۔
وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٝ (8)
اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا۔
[5:41pm, 4/11/2016] +92 332 2224761: Koita se saifullah shah
[5:56pm, 4/11/2016] +92 332 2224761: Ksi dost ko koi baat buri lgi ho to maazrat.
[7:46pm, 4/11/2016] +92 334 2005008: علم جب تک عمل میں نا بدلے وہ تب تک معتبر اور ثمر آور نہیں ہوتا ۔ اور صاحبِ کردار وہی ہوتا ہے جس کے پاس جو علم ہو اس پر عمل کرے اور عمل نیک نیتی سے ہو تو انسان میں عاجزی پیدا ہوتی ہے اور عاجزی میں خلوص ہو تو یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں بندہ اللہ کا پیارا بن جاتا ہے ۔ اور جب کوئی بندہ اللہ کا پیارا ہو تو اس سے ڈرنا ہی چاہیے کہ پتہ نہیں اللہ کو کیا چیز بری لگ جائے کہ اس کے پیارے بندے کا صحیح احترام نہیں کیا گیا اس لیے بزرگان دین کے پاس جب بھی جائیں احترام سے جائیں ادب سے جائیں تا کہ آپ پر کوئی عتاب نا آئے یا اللہ کی ناراضگی کے موجب نہ بنیں.
[11:23pm, 4/11/2016] +92 304 7574621: Jnab koi ya btay
[11:24pm, 4/11/2016] +92 304 7574621: Awaz khrab ho gai ha kasy teek ho ge
[11:32pm, 4/11/2016] Ghulshan Jee: کشمش کو بھون کر چوسیں اواز ٹھیک ھو جاءے گی
[11:37pm, 4/11/2016] +92 304 7574621: Kis mis kitni ho
[10:13am, 4/12/2016] +92 334 2005008: علم کیمائے اکسیر کا عامل کامل روشن ضمیر ہوتا ہے وہ خضرؑ کی طرح صاحبِ نظر ہوتا ہے جو اپنی نظر وتوجہ سے مٹی کے ڈھیلوں کو سوناوچاندی بنا دیتا ہے ایسی نظر کو پارس نظر کہتے ہیں ۔ جو آدمی ایسی قوی نظر رکھتاہے اُس کی نگاہ میں مٹی وسونا چاندی برابر ہوتے ہیں۔
عقلِ بیدار ، ص : 59 ، حضرت سلطان باھورحمتہ اللہ تعالٰی علیہ
[10:30am, 4/12/2016] +92 334 2005008: "وہ شخص طلبِ مولیٰ میں صادق نہیں جو خود کو اور
مشاہدہ کو بھول کر توحیدِ مولیٰ میں غرق نہیں ہوجاتا ہے۔"
عین الفقر، ص : 375 ، حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ
[10:33am, 4/12/2016] +92 334 2005008: نفس کیا چیز ہے؟
شیطان کیا چیز ہے؟
اور دنیا کیا چیز ہے؟
نفس بادشاہ ہے شیطان اُس کا وزیر ہے اور
دنیا اِن دونوں کی ماں ہے جو اِن کی پرورش
کرتی ہے۔
عین الفقر، ص : 173 ، حضرت سلطان باھورحمتہ اللہ تعالٰی علیہ
[10:34am, 4/12/2016] +92 314 5866607: حضرت امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کو بھی قتل کیا تو درمِ دنیا ہی نے کیا، اگر یزید مفلس ہوتا تو امامینؑ کا تابعدار ہوتا کہ امامین پاک اُم المومنین حضرت فاطمۃ
الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نُورِ چشم اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی اولاد تھے۔ پس اہلِ دنیا ابوجہل ویزید ہے نہ کہ رابعہؒ وبایزیدؒ۔
عین الفقر، ص: 397 ،حضرت سلطان باھوؒ
[10:35am, 4/12/2016] +92 334 2005008: سُن! آدمی کا وجود دودھ کی مثل ہے۔ دودھ میں لسی بھی ہوتی ہے، د ہی اور مکھن بھی ہوتا اور گھی بھی ہوتا ہے، اِسی طرح آدمی کے وجود میں نفس بھی ہوتا ہے، قلب بھی ہوتا ہے، روح بھی ہوتی ہے اور سر بھی ہوتا ہے اور یہ چاروں ایک ہی جگہ جمع ہوتے ہیں۔ مرشد کو اُس عورت کی طرح ہونا چاہیے جو دودھ میں مناسب مقدار میں لسی ڈال کر رکھ دیتی ہے، ساری رات دہی جمتا رہتا ہے صبح کو دہی بلوتی ہے تو مکھن نکل آتا ہے اور لسی الگ ہو جاتی ہے، پھر مکھن کو آگ پر چڑھاتی ہے تو مکھن سے کثافت دور ہو جاتی ہے اور گھی نکل آتا ہے ، مرشد کو عورت سے کمتر نہیں ہونا چاہیے کہ جیسے عورت دودھ کے کام کو انتہا تک پہنچاتی ہے اُسی طرح مرشد کا کام بھی یہ ہے کہ طالب کو اُس کے وجود میں مقامِ نفس، مقامِ قلب ، مقامِ روح ، مقامِ سر، مقامِ توفیقِ الہٰی ، مقامِ علمِ شریعت و طریقت و حقیقت و معرفت اور مقامِ خناس و خرطوم و شیطان و حرص و حسد وکبر علیحدہ علیحدہ کرکے دکھائے۔
عین الفقر، ص : 139، حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ
[10:35am, 4/12/2016] +92 334 2005008: جو شخص چاہتا ہے کہ اُسے اللہ تعالیٰ کی دوستی نصیب ہوجائے تو اُسے چاہیے کہ ہر وقت نمازِ دائمی (تصور اسم اللہ) میں مشغول رہے۔
(عین الفقر:ص 325، حضرت سلطان باھوؒ)
[10:36am, 4/12/2016] +92 334 2005008: فقرا کے لیے چار ش یہ ہیں :
۱- شرم کرنا نافرمانی خدا سے
۲- شوق شغل اللہ [ تصور اسم اللہ ذات کا شوق ]
۳- شب بیداری و دل بیداری
۴- شہوت و ہواے نفس سے اجتناب
عین الفقر: ص ۲۳۵، حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ
[10:36am, 4/12/2016] +92 314 5866607: بیت: اے باھوؒ دیوزادے نفس کا اسکے علاوہ اور کوئی علاج نہیں کہ اُسے آتشِ عشق میں اتنا جلایا جائے کہ یہ مسخر ہوجائے الغرض تجلیٰ اہلِ شریعت کے چہرے پرچمکتی ہے اہلِ طریقت کے دل میں چمکتی ہے اہلِ حقیقت کی آنکھوں میں چمکتی ہے اور اہلِ معرفت کے سرسے قدم تک تمام وجود میں چمکتی ہے۔
عین الفقر: ص 91، حضرت سلطان باھوؒ
[10:37am, 4/12/2016] +92 334 2005008: بیت:۔ حق سے دوری تیرےلئے شرمندگی ہے۔ پریشان دل حضورِ حق میں ہرگز نہیں پہنچ سکتا دل بھی دوقسم کاہے، ایک اہلِ قلب کا، دوسرا اہلِ سلب کا اہلِ قلب کادل ذکراللہ کے نورسے پُر اہلِ حیات ہوتاہے اور اہلِ سلب کامردہ دل ذکراللہ سے غافل دونوں جہان میں خجل وروسیاہ وشرمندہ ہوتاہے جس کے وجود میں ذکرِ قلب ہے جاری آشکارا
اُس کے سامنے ہے حجابِ اکبر پارہ پارہ
عین الفقر : ص 71،حضرت سلطان باھوؒ
[10:38am, 4/12/2016] +92 334 2005008: ہرآدمی کے دِل میں دوخانے ہیں ایک میں فرشتہ رہتاہے اوردوسرے میں شیطان آدمی جب ذکر اللہُ کرتاہے تو شیطان اُس سے دُور بھاگ جاتاہے اور جب ذکراللہُ سے غافل ہوتاہے تو شیطان اُس پر غالب آجاتاہے اور اُسے وسوسوں میں مبتلاکر دیتا ہے.
حضرت سلطان باھوؒ عین الفقر ص 113
[10:38am, 4/12/2016] +92 314 5866607: دنیا مکروفریب ہے اور مکروفریب ہی سے ہاتھ آتی ہے، جس قدر کوئ دنیا سے دوستی رکھتا ہے، اُسی قدر قرب خداسے دوُر ہوتا چلا جاتا ہے کہ بندے اور مولیٰ کے درمیان حجاب بھی دنیا ہے۔ جوکوئ دنیا سے محبت کرتاہے دنیا اس کو اپنا دیوانہ بنا کر اِس قدر اُلجھا دیتی ہے کہ پھر وہ اس سے نجات پاہی نہیں سکتا۔
بیت:۔ ’’سونے کا رنگ زرد کیوں ہوتا ہے ؟
اس لئے کہ اہلِ ہمت کے سامنے آکر اُس کے چہرے پرزردی چھاجاتی ہے‘‘۔
عین الفقر: ص 102، حضرت سلطان باھوؒ
[10:46am, 4/12/2016] +92 314 5866607: آدمی کے وجود میں چار لذتِ نفسانی ہیں جوسب کی سب فانی ہیں صرف پانچویں لذتِ حق تعالیٰ جاودانی ہے جسے بقاٗ حاصل ہے اور کھانےپینے کی لذت دوم مجامعت کی لذت سوم حکمرانی کی لذت اور چہارم علم وفضیلت کی لذت جب کہ پانچویں لذت حق تعالیٰ طالب اللہ کے وجود میں غلبہ پالے تو چاروں لذات مغلوب ہوجاتی ہیں اور ہرگز اچھی نہیں لگتی جسے کہ بیمار کو کھانا اچھا نہیں لگتا.
حضرت سلطان باھوؒ آدمی کے وجود میں چار لذتِ نفسانی ہیں جوسب کی سب فانی ہیں صرف پانچویں لذتِ حق تعالیٰ جاودانی ہے جسے بقاٗ حاصل ہے اور کھانےپینے کی لذت دوم مجامعت کی لذت سوم حکمرانی کی لذت اور چہارم علم وفضیلت کی لذت جب کہ پانچویں لذت حق تعالیٰ طالب اللہ کے وجود میں غلبہ پالے تو چاروں لذات مغلوب ہوجاتی ہیں اور ہرگز اچھی نہیں لگتی جسے کہ بیمار کو کھانا اچھا نہیں لگتا
عین الفقر: ص 70 حضرت سلطان باھوؒ
[10:47am, 4/12/2016] +92 334 2005008: آدمی کے وجود میں چار لذتِ نفسانی ہیں جوسب کی سب فانی ہیں صرف پانچویں لذتِ حق تعالیٰ جاودانی ہے جسے بقاٗ حاصل ہے اور کھانےپینے کی لذت دوم مجامعت کی لذت سوم حکمرانی کی لذت اور چہارم علم وفضیلت کی لذت جب کہ پانچویں لذت حق تعالیٰ طالب اللہ کے وجود میں غلبہ پالے تو چاروں لذات مغلوب ہوجاتی ہیں اور ہرگز اچھی نہیں لگتی جسے کہ بیمار کو کھانا اچھا نہیں لگتا.
حضرت سلطان باھوؒ آدمی کے وجود میں چار لذتِ نفسانی ہیں جوسب کی سب فانی ہیں صرف پانچویں لذتِ حق تعالیٰ جاودانی ہے جسے بقاٗ حاصل ہے اور کھانےپینے کی لذت دوم مجامعت کی لذت سوم حکمرانی کی لذت اور چہارم علم وفضیلت کی لذت جب کہ پانچویں لذت حق تعالیٰ طالب اللہ کے وجود میں غلبہ پالے تو چاروں لذات مغلوب ہوجاتی ہیں اور ہرگز اچھی نہیں لگتی جسے کہ بیمار کو کھانا اچھا نہیں لگتا
عین الفقر: ص 70 حضرت سلطان باھوؒ
[10:53am, 4/12/2016] +92 314 3166799: وچے ای بیڑے وچے ای جھیڑے وچے ای وجھ موہانے ھو
[11:07am, 4/12/2016] +92 334 2005008: جو آدمی ذکرِ اللہُ ، اسمِ اللہُ ، معرفتِ الہٰی اور ہدایتِ فقر کا انکار کرتا ہے
تو بے شک وہ تمام کتابوں، فرشتوں ، پیغبروں ، اصحابہ کرام ، علما اور فقرا کا منکر ہے اور ہدایت ودینِ محمد رسول اللہ ﷺ سے برگشتہ ہے۔
محک الفقر، ص : 161 ، حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ
[12:21pm, 4/12/2016] +92 334 1388858: Denver virus k lye koi Nisha batayen
[12:22pm, 4/12/2016] +92 334 1388858: Denge virus k lye koi Niskha batayega.
[1:02pm, 4/12/2016] +92 334 2005008: اسلام وعلیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا بخاری اور مسلم شریف میں درود ابراہیمی کے علاوہ کوئی اور درود پاک بھی موجود ہے جس کو پڑھا جا سکے اگر ہے تو برائے مہربانی اس کو حوالہ دے دیں؟
جواب:
بخاری ومسلم یا کوئی بھی حدیث کی ایسی کتاب نہیں ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک کے ساتھ درود ابراہیمی لکھا ہوا ہو۔ ساری کتب میں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا علیہ الصلوۃ والسلام) کے الفاظ ہی موجود ہیں۔ قرآن پاک میں بھی درود اور سلام دونوں ہی پڑھنے کا حکم ہے اس لیے صرف درود ابراہیمی پڑھنے سے حکم باری تعالی پر عمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ درود کا بھی حکم ہے اور سلام کا بھی بلکہ سلام کے لیے ڈبل حکم یعنی تاکید پیدا کی گئی ہے۔ نماز میں ہم درود ابراہیمی پڑھنے سے پہلے سلام پڑھتے ہیں۔ اس لیے حکم باری تعالی پر مکمل عمل ہو جاتا ہے۔ لیکن نماز کے علاوہ ممکن نہیں ہے کہ جب بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک آئے ہم درود ابراہیمی پڑھیں۔
تاریخ گواہ ہے، کتابیں موجود ہیں۔ آج تک کسی نے کوئی کتاب نہیں لکھی جس میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے اسم مبارک کے ساتھ درود ابراہیمی لکھا ہو نہ ہی کسی نے ایسا خطاب کیا کہ جہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک آیا ہو اس نے درود ابراہیمی پڑھا ہو، آج تک ایسا نہیں ہوا۔
لہذا صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، ائمہ فقہ، ائمہ حدیث اور تمام سلف صالحین کی تحریر اور تقریر سے درود ابراہیمی کے علاوہ درود وسلام ثابت ہیں جو بھی اپنے اپنے انداز میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں درود وسلام پیش کرے قبول ہے۔ اعتراض کرنے والے خود بھی اس پر عمل نہیں کرتے صرف عوام کو گمراہ کرنے کی خاطر طرح طرح کے اختلافات پیدا کرتے رہتے ہیں، حالانکہ واضح حکم ہے درود کا بھی اور سلام کا بھی، جب درود ابراہیمی ہے ہی صرف درود تو پھر سلام کہاں گیا؟
[12:02am, 4/13/2016] +92 333 7530922: Look http://vingrl.com/win-samsung-
[12:11am, 4/13/2016] +92 333 7530922: Look http://vingrl.com/win-samsung-
[4:51pm, 4/13/2016] +92 334 2005008: مولانا جلال الدّین محمّد بلخی رومی سے اُن کے ایک شاگرد نے ایک مرتبہ پوچھا:
"حضرت یہ زھر کیا ھوتا ھے؟"
مولانا کا جواب آبِ زر سے لکھنے کے قابل ھے، فرمایا:
"جو چیز ضرورت سے زائد ھو وہ زھر ھے جیسے اقتدار، دولت، بھوک، انا، لالچ، کاھلی، محبّت، امید، نفرت۔ اور یہ صرف چند مثالیں ھیں۔"
[7:33pm, 4/13/2016] +92 333 3610053: 🤕
[7:43pm, 4/13/2016] +92 300 3450029: Mohsin Bhaa by mistake
[7:44pm, 4/13/2016] +92 333 3610053: Je je Imran bhai
[11:03am, 4/15/2016] +92 334 2005008: '' ظالم سے نجات ''
طبرستان میں ایک ظالم بادشاہ تھا،شہر کی دوشیزہ لڑکیوں کی آبرویزی کرتا تھا۔ایک مرتبہ ایک بڑھیا حضرت شیخ ابوقصاب سعید رحمتہ اللّہ علیہ کی خدمت میں گریہ و زاری کرتی ہوئی آئی اور فریاد کی کہ:
'' حضور! میری دستگیری فرمائیں۔بادشاہ نے مجھے کہلوایا ہے کہ آج وہ میری بیٹی کی عزت لوٹنے والا ہے۔یہ منحوس خبر سُن کر آپ کی خدمت میں بھاگی آئی ہوں کہ شائد آپ کی دعا سے اُس بلا کو ٹالا جا سکے۔ ''
شیخ ابوسعید قصاب رحمتہ اللّہ علیہ نے ضعیفہ کی بات سُن کر چند ثانیہ کے لیے سر جُھکائے رکھا۔اس کے بعد سر بلند کر کے فرمایا:
'' بوڑھی ماں! زندوں کے اندر تو ایسا کوئی مستجاب الدعوات نہیں رہا،تُو فلاں قبرستان جا وہاں تجھے ایسا ایسا شخص ملے گا وہ تیری حاجت پوری کرے گا۔ ''
ضعیفہ قبرستان میں پہنچی تو وہاں ایک شکیل و رعنا خوش پاش نوجوان سے اس کی ملاقات ہوئی جس کے لباس سے خوشبوؤں کے فوارے اُبل رہے تھے۔ضیعفہ نے سلام کِیا اور جواب کے بعد نوجوان نے ضیعفہ کے احوال پوچھے،اس نے سارا ماجرا کہہ سُنایا۔
نوجوان نے ضعیفہ کی پوری بات غور سے سُننے کے بعد اس سے کہا:
'' تُو پِھر شیخ ابوسعید کی خدت میں جا اور ان سے دعا کے لیے کہہ،ان کی دعا قبول ہو گی۔ ''
ضیعفہ نے جُنجھلا کر کہا:
'' عجیب بات ہے زندہ مجھے مُردوں کے پاس بھیجتا ہے اور مُردہ مجھے پِھر زندہ کے پاس لوٹاتا ہے اور میری حاجت روائی کوئی نہیں کرتا،بھلا اب میں کہاں جاؤں؟ ''
نوجوان نے پِھر ضعیفہ سے کہا:
'' تُو شیخ ابوسعید کی خدت میں جا،ان کی دعا سے تیرا مقصد پورا ہو گا۔ ''
ضیعفہ پِھر شیخ ابوسعید کے پاس آئی اور سارا واقعہ عرض کِیا۔شیخ ابوسعید نے سر جُھکایا اور ان کا جسم پسینہ سے شرابور ہو گیا۔پِھر ایک چیخ ماری اور منہ کے بل گِر پڑے۔اسی لمحہ شہر میں شور و ہنگامہ کی آواز بلند ہوئی،لوگ کہہ رہے تھے:
'' بادشاہ فلاں ضعیفہ کی بیٹی کی آبرویزی کی نِیّت سے جا رہا تھا،راستہ میں اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ گھوڑے سے گِرا تو اس کی گردن ٹوٹ گئی اور فوراً مر گیا۔اِس طرح شیخ کی دعا سے اہلِ شہر سے یہ بلا ٹل گئی۔ ''
بعد میں لوگوں نے شیخ سے دریافت کِیا کہ:
'' آپ نے ضعیفہ کو قبرستان کیوں بھیحا اور پہلے ہی آپ نے دعا کیوں نہ فرما دی؟ ''
شیخ نے کہا:
'' میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں کہ میری دعا سے وہ ہلاک ہو۔اِس لیے میں نے بڑھیا کو خِضر علیہ السّلام کے پاس بھیجا۔انہوں نے اسے پِھر میرے پاس بھیجا کہ ایسے پلید اِنسان کے لیے بد دعا کرنا جائز ہے۔ ''
نام کتاب = روض الریاحین فی حِکایت الصالحین ( اُردُو ترجمہ = بزمِ اولیاء )
صفحہ = 344،345
مصنف = اِمام عبداللّہ بِن اسعد یافعی رحمتہ اللّہ علیہ
[11:05am, 4/15/2016] +92 334 2005008: ایک مرتبہ ایک بوڑھا اور ایک نوجوان شخص حج پر گئے۔ اس بوڑھے شخص نے خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئےکہا "لبیک" تو غیب سے آواز آئی "لالبیک" (تیری لبیک، حاضری قبول نہیں)، یہ آواز سننے کے باوجود بوڑھے نے اپنا عمل جاری رکھا۔ نوجوان نے پوچھا کہ "آپ کو سنائی نہیں دیا؟کہ آپ کو کیا جواب ملا ہے؟"۔ تو بوڑھے شخص نے جواب دیا ہاں میں نے سنا۔۔ اور ستر سال سے میں نے جب بھی حج کیا میں نے لبیک کے جواب میں یہی سنا۔۔نوجوان نے حیران ہوکرکہا تو پھر آپ کیوں اب اس عمر میں اتنی مشقت کرتے ہو ، حج کے لیے رختِ سفر باندھتے ہو؟ آپ کی تو حاضری قبول ہی نہیں ہوتی۔۔ یہ سُن کر بوڑھے شخص نے جواب دیا"ہم سب نے آخر ایک در پر واپس لوٹنا ہے، مجھے خوب علم ہے کہ یہی وہ در ہے، اگر کوئی اور در ہوتا تو میں اس کا رُخ بھی کرلیتا، لیکن اس کے سوا جب کوئی در ہی نہیں تو پھر کہاں جاؤں؟ میں نے مرتے دم تک اسی در پر دستک دینی ہےاپنی حاضری لگواتے رہنا ہے ، حاضری قبول نا ہو یہ اُس کی مرضی"۔۔۔ بوڑھے شخص کہ منہ سے یہ الفاظ نکلنے کی دیر تھی کہ غیب سے آواز آئی۔۔ کہ اے میرے بندے تیرا آنا قبول ہوا ناصرف آج کا آنا بلکہ سترسالوں میں جتنی بار بھی آیا سب قبول ہوا۔
[11:07am, 4/15/2016] +92 334 2005008: ** ﺟﺎﺩﻭ ﻭ ﺟﻨﺎﺕ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺎﺕ
***
: ﺳﺮ ﺩﺭﺩ ﮬﻮﻧﺎ.
: ﭘﻮﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮬﻮﻧﺎ .
: ﭘﻮﺭﺍ ﺟﺴﻢ ﮔﺮﻡ ﺭﮬﻨﺎ . ﻧﺎﮎ
ﺍﻭﺭ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﮔﺮﻡ
ﮬﻮﺍ ﻧﮑﻠﻨﺎ . ﯾﺎ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﮐﯽ ﺗﭙﺶ ﻣﺤﺴﻮﺱ
ﮬﻮﻧﺎ .
: ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺧﺎﻧﮧ ، ﮔﻨﺪﮔﯽ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ . ﯾﺎ
ﺍﭘﻨﮯﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ . ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻟﯿﭩﺮﯾﻦ ﻣﯿﮟ
ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ .
.
: ﺟﻨﺴﯽ ﺧﻮﺍﮬﺶ ﮐﺎ ﺣﺪ ﺳﮯ
ﺑﮍﮬﻨﺎ ، ﻣﻄﻠﺐ
ﻃﻠﺐ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﺁﻧﺎ .
: ﮐﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮬﻮﻧﺎ .
: ﺩﻝ ﮐﯽ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﮐﺎ ﺗﯿﺰ ﮬﻮ
ﺟﺎﻧﺎ . ﺍﻭﺭ
ﮔﮭﺒﺮﺍﮬﭧ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﺎ .
: ﭼﮍﭼﮍﺍ ﮬﻮ ﺟﺎﻧﺎ.
: ﺑﮯ ﺳﮑﻮﻧﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﺎ .
: ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ
ﮐﻤﯽ ﺁ ﺟﺎﻧﺎ .
: ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺋﯿﺎﮞ ﭼﺒﮭﻨﺎ .
: ﺩﻣﺎﻍ ﮐﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺎﻡ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺭﮐﮫ
ﮐﺮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﻧﺎ . ﭘﮭﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮬﻨﺎ .
ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ
ﮐﭽﮫ ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ
ﮐﻮﺉ ﮔﻠﮧ ﺩﺑﺎ ﺭﮬﺎ
ﮬﮯ .
: ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮈﺭﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﺧﻮﺍﺏ
ﻧﻈﺮ ﺁﻧﺎ . ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﮐﻮﺉ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺗﻨﮓ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ .
ﺟﺲ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﮯ ﺧﻮﻥ ﺳﮯ ﺟﺎﺩﻭ
ﮐﯿﺎ ﮬﻮ ﮔﺎ ﺍﮐﺜﺮ
ﻭﮬﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮬﮯ ... ﺟﯿﺴﮯ
ﮐﺘﺎ ،ﺑﻠﯽ ، ﺳﺎﻧﭗ ،
ﻻﻝ ﺑﯿﮓ ، ﺑﭽﮭﻮ ﻭﻏﯿﺮﮦ .
: ﻣﻌﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻠﯽ )
ﻗﮯ ، ﺍﻟﭩﯽ ( ﮐﺎ
ﺁﻧﺎ . ﯾﺎ ﻗﮯ ﺁﻧﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮬﻮﻧﺎ . ﯾﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﻥ
ﮐﻮ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺗﻌﻮﯾﺬ
ﮐﮭﻼﮰ ﯾﺎ ﭘﻼﮰ ﮔﮱ
ﮬﻮﮞ .
.
: ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮬﻮﻧﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﮐﺘﺎ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ
ﺑﯿﺰﺍﺭﯼ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﺎ .
: ﺑﻼﻭﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮬﻮﻧﺎ .
: ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﻧﮧ ﻟﮕﻨﺎ . ﯾﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﻧﺎ .
: ﺳﯿﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻦ ﺍﻭﺭ ﺗﺰﺍﺑﯿﺖ ﮬﻮﻧﺎ .
: ﮬﺎﺗﮫ ، ﭘﺎﺅﮞ ﺳﻦ ﮬﻮ ﺟﺎﻧﺎ . ﻣﻄﻠﺐ ﺳﻮ ﺟﺎﻧﺎ .
: ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮬﻮﻧﺎ .
: ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺍﺣﺘﻼﻡ
ﮬﻮﻧﺎ : . ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺣﯿﺾ
)ﻣﺎﮬﻮﺍﺭﯼ
( ﻣﯿﮟ ﺑﮯ
ﻗﺎﻋﺪﮔﯽ ﮬﻮﻧﺎ. ﺍﮔﺮ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﺵ ﮐﺎ ﺟﺎﺩﻭ ﮬﻮ
ﺗﻮ ﮐﻢ ﮬﻮ ﮔﯽ ﺟﺒﮑﮧ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮬﻮ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﺮﺍﺉ
ﭘﺮ ﺍﮐﺴﺎﻧﮯ ﯾﺎ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯿﻠﯿﮯ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ .
: ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﮐﮭﯿﻨﭽﻨﺎ .
ﺍﮐﺜﺮ ﮔﺮﺩﻥ ﺍﻭﺭ
ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ .
: ﻏﺼﮧ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺁﻧﺎ .
: ﮬﺮ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺪﯼ ﮐﯽ
ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﮕﺮ
ﭘﻮﺭﺍ ﻧﮧ ﮐﺮ ﭘﺎﻧﺎ ..
.
: ﺑﻼ ﻭﺟﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ
ﮬﻮﻧﺎ .
: ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﭼﮭﯿﻨﭩﮯ
ﺁﻧﺎ ﯾﺎ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﭘﮧ
ﺁﻧﺎ .....
[11:10am, 4/15/2016] +92 334 2005008: رات کا عالم عجب عالم ہے ۔رات کی خوشبو ہر خوشبو سے بہتر ہے ۔یہ خوشبو افلاک سے نازل ہوتی ہے ۔رحمت کی خوشبو ،کا ینات کی خوشبو بلکہ حسن ذات کی خوشبو ۔
رات کی اعجاز یہ ہے کہ آج بھی پکارنے والوں کو جواب ملتا ہے ۔
خواجہ واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ
[11:24am, 4/15/2016] +92 334 2005008: جب اللہ تعالی نے عرش کو بنایا تو ایک فرشتہ نور سے پیدا کیا اور اس کو ساتوں آسمان کی طاقت بخشی اور ایک فرشتہ ہوا سے پیدا کیا اور اسکو ہوا کی قوت دی اور ایک فرشتہ پانی سے پیدا کیا اور اسکو پانی کی قوت عطا کی پھر ان سب کو حکم دیا کہ عرش اٹھالو وہ اس کے نیچے ستر ہزار برس تک کھڑے رہے اور اٹھا نہ سکے یہاں تک کہ ان کا پسینہ دریا کی طرح بہنے لگا پھر ان کی قوت اور بڑھا دی آخر جب ان کا عجز معلوم ہوگیا تو اللہ تعالی نے فرمایا لا حول ولا قوتہ الا باللہ العلی العظیم پڑھو جب انہوں نے پڑھا تو خدا وندی قوت سے اٹھا لیا-
(نزہتہ المجالس)
آپﷺ کا فرمان ہے
لا حول ولا قوتہ الا باللہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے-
[12:30pm, 4/15/2016] +92 334 2005008: مد ينه ياد آتا هے !
[1:07pm, 4/15/2016] +92 334 2005008: سیف الملوک
عِشق تے عاشِق دے گُناں بارے چند کلمے
1
سدا سُکھالے اوہو بھائی، عِشق جِہناں گھٹ آیا
مرہم پھٹ اونہاں دے بھانے، ہکو جِیہا سُکھایا
2
تاج تخت سُلطانی تج کے، ٹھُوٹھا پھڑن گدائی
رکھ اُمّید سجن دے در دِی ،کٹّن جو بن آئی
3
دم دم پِین شراب غماں دِی، دم نہ مارن مُولے
وَٹّ جھلّن وٹ پان نہ متّھے، واہ تِنہاں دے رُولے
4
مِٹّھا نشہ شراباں والا، پر وِچ تروٹک پِھّکی
بُلبل نُوں خُوش صُحبت گُل دِی، بُری کنڈے دِی دِکیّ
5
کر کر یاد سجن نُوں کھاندے ،بھُن بھُن جِگر نوالے
شربت وانگ پِیا دے ہتّھوں، پیون زہر پیالے
6
پھیر خلاصی منگدے ناہیں، جو قیدِی دِلبر دِے
پھاہی تِھیں گل کڈھدے ناہیں، ہوئے شِکار اُس گھر دے
7
جھلّن بھار ملامت والے، عِشّقے دے متوارِے
بھُکھّا اُٹّھ ہووے مستانہ، بھار اُٹھاوے بھارِے
8
حال اوہناں دا کِس نُوں معلم، پھر دے آپ چُھپایا
دِل وِچ سوز پتنگاں والا، چہرہ شمع بنایا
9
باہروں دِسّن میلے کالے، اندر آب حیاتی
ہونٹھ سُکے ترہایاں وانگر، جان ندی وِچ نہاتی
10
شہر اُجاڑ ڈھُڈیندے وتدے، دِلبریار بغل وِچ
گُنگے ڈورے کن زُبانوں، معنی سب عقل وِچ
11
رات دِینہاں گل لایا جانی، ہِک دم جُدا نہ ہوندے
عاشِق رجّن نہیں مُحمّد، بھر بھر ہنجُوں روندے
12
جِنھاں عِشق بندے دا لگّا، صبر آرام نہ تِنہاں
سُتّےبیٹھے اُت وَل وِیکھن، لُٹ کھڑے سن جِنّھاں
13
ایسا صِدق لیاون اُس تے، سچّے نال دِھیانے
اُس بِن باغ بزار نہ بھاون، لاون اگ جہانے
14
ہور کِسے دی چاہ نہ رِہندی، سُٹّن سبھ اشنایاں
ماؤ پیو دا لنگ اُتارن، لج لگاون بھائیاں
15
اکھّیں پائے کر کن ناہیں، نیِہوں جِنہاندے لائے
اکّھ میٹو تاں دِل وِچ وسدے، لُوں لُوں وِچ سمائے
16
شرم حیاء نہ رہے کِسے دا ،جھلّن بدِی خوارِی
دِلبر باجھوں صبر نہ کر دے، جِنھاں لگائی یارِی
17
جے اوہ جان پیاری منگے، تُرت تلی پر دھردِے
سِر لوڑے تاں سِہل پچھانن ،رتّی عُذر نہ کر دے
18
اِس ہوائے حِرص ہواؤں، ایسا ہے چِت مُسدا
جِنھاں عِشق حقِیقی لایا ،کرو تعجُب اُس دا
19
حالاں اندر کرو نہ حُجّت ،بھلی نصِیحت بھائی
حال مُحبّاں دا ربّ معلم، ہور کے جانے کائی
20
ہر دم ذِکر سجن دے اندر ،کُل جہان بھُلاون
دِل جانی دے عِشقے کولوں، اپنی جان رُلاون
21
ہِک دِلبر نُوں دِل وِچ رکھّن، سبھ خلقت تِھیں نسّن
وِیدن وِید نہ جانن مُولے، کہو کے دارُو دسّن
22
کن آواز پوے ہر ویلے ،پہلے قؤل الستوں
قَالُوْ بَلٰی کُو کیندے بھائی، اوسے ذؤقوں مستوں
23
وِچّوں آتش باہروں خاکی ،دِسدے حالوں خستوں
جے ہِک نعرہ کرن مُحمّد، ڈَھین پہاڑ شِکستوں
24
جے ہِک آہ درد دِی مارن، ہوندا مُلک وِیرانی
کوہ قافاں دِے سبزے سڑدِے، ندئیں رہے نہ پانی
25
واؤ وانگ پِھرن سبھ مُلکِیں، ہر گِز نظر نہ آون
چُپ رِہن کستُوری وانگوں، پِھر خُوشبُو دُھماون
26
راتیں زارِی کر کر روون، نِیند اکّھیں دِی دھوندے
فجرے اؤگنہار کہاون، ہر تِھیں نِیویں ہوندے
27
راتِیں دِیہاں سوز سجن دِے، رِہن ہمِیشہ سڑدِے
راتوں دِینہہ پچھانن ناہیں، نہ لہندے نہ چڑھدے
28
جِنھاں ہِک گھُٹ بھر کے پیِتا، وحدت دے مدھ لالوں
عِلم کلام نہ یاد رِہیو نیں، گُزرے قال مُقالوں
29
دوئے جہان بھُلائے دِل توں، خبر نہ رہیا والوں
رانجھے وِچ سماء مُحمّد، چُھٹّی ہِیر جنجالوں
30
دِلبر نال ہویا ہِک جِس نے، اپنا آپ گوایا
تو ہیں پڑدا اگّے چڑھدا، توہِیں یار چُھپایا
31
شاہ منصُور اَنَا الْحَق کہندا ،کیوں نہیں شرمایا
تُو ہیں محرم یار مُحمّد ،کہندا کؤن پرایا
32
ریت وجُود تیرے وِچ سونا، اینویں نظر نہ آوے
ہنجُوں دا گھت پانی دھوویں، ریت مِٹّی رُڑھ جاوے
33
پارہ گھت مُحبّت والا ،گولی ہِک بناوے
خاک رلّے وِچ خاک مُحمّد، سونا قِیمت پاوے
34
دُدّھ وجُود تیرے وِچ شِیری، روغن دار سمانی
مُرشد لاوِے جاگ پرم دِی، تاں جمّے دُدھّ پانی
35
گل وِچ پھاہ غماں دا گھت کے، ذِکروں چِھک مدہانی
ہمّت نال مُحمّدبخشا، مکھّن آیا جانی
36
کلی کہانوِیں نہ شرمانوِیں ،کُلّی ہے ایہہ چاندی
سیر اندر سِرساہی پانی ،سستی تدوِکاندی
37
بوتے گال ریاضت والے، آتش بال غماں دی
پریم جڑی گھت وِیکھ مُحمّد، سبھ چاندی من بھاندی
38
نَحْنُ اَقْرَبُ آپ کُو کنیدا، ہِک دم دوُر نہ دِسدا
اُس دِے ڈیرے اندر تیرے، پھریں لُوڑ اؤ جِس دا
39
محرم ہوویں کؤن بھُلا وے، پڑ دا ہے وِچ کِس دا
جاں جاں دِسّےآپ مُحمّد، تاں تاں آپ نہ دِسدا
40
اُس دُوئی دے دعوے پٹیاں، سٹیاں دُور حضُوروں
نُوروں سایہ ظاہر آیا ،چُھپ نسدا پِھر نُوروں
41
جاں ایہہ سایہ دُور ہٹایا، سچ نِکلے منصُوروں
میں ونجے تاں پِھیر مُحمّد، کؤن کہے تُوں دُوروں
42
وحدت دا دریا وڈِیرا، جاں مؤجاں وِچ آوے
ڈاباں وکھریاں بھن ڈھناں، ہِکّو لہر بناوے
43
قطرہ ونج پیا دریاوے ،تاں اوہ کؤن کہاوے
جِس تے اپنا آپ گواوے ،آپ اوہو بن جاوے
44
اوّل زُہد رِیاضت اندر، بیٹھ کِنارے گل کھاں
دُھپّاں مِینہ سیالے پالے ،سبھ سِرے پر جھل کھاں
45
ساس رِہن رت ماس نہ ہوون، کالکھ جُثّے مل کھاں
جاں سُک ہوویں وال مُحمّد، زُلف سجن دِی رل کھاں
46
رُکھّوں تروڑ لئے پت ساوے، بھن مروڑ ٹِکائے
ہرے بھرے سن آباں والے، دُھپے پاء سُکائے
47
لنگرِی ڈنڈے گھوٹ بے چارے، صُورت بھن گوائے
تاں دِلبر دے پیریں لگّی ،مِہندی رنگ لگاے
48
جُنبی دا ہِک وال دیہی دا ،غُسلوں رہے جے سُکاّ
اوسے حال رہے گا جُنبی، غُسل نہ جائز اُکاّ
49
جے ہِک وال تیرے وِچ میاں، اپنی آپ خُودی دا
تاں بھی بُہت نرگ نُوں بالن، اِکسے عیب بد ی دا
50
کے کُجھ بات عِشق دِی دسّاں، قدر نہ میرا بھائی
ایہہ دریا اگّے دا وگدا ،جِس دا لاہنگ نہ کائی
51
جِس نے قدم اگیرے دھریا،سویو سڑیا سڑیا
پر ایتھے سڑ مرن حیاتی، اینویں گل نہ اڑیا
52
جیون جیون جھُوٹا نانواں ،مؤت کھلی سِر اُتّے
لکھ کروڑ تیرے تِھیں سوہنے، خاک اندر رل سُتّے
53
جنِھاں عِشق خرِید نہ کِیتا، اینویں آ بھگُتّے
عِشقے باجھ مُحمّدبخشا ،کیا آدم کیا کُتّے
54
جِس دِل اندر عِشق نہ رچیا ،کُتّے اُس تِھیں چنگّے
خاوند دے در راکھی کر دے، صابر بھُکھّے ننگّے
55
عِشقوں باجھ اِیمان کویہا ،کہن اِیمان سلامت
مر کے جیون صِفت عِشق دی، دم دم روز قیامت
56
پُل صراط عِشق دا پینڈا، سو جانے جو ٹرُدا
آس بہشت دلیری دیندا ،نرگ وِچھوڑا ہرُدا
57
لاکھ جہاز ایسے وِچ ڈُبےّ، کیہڑا پار اُتر دا
ایس ندی دِیاں مؤجاں تک کے دِل دلیراں بُھردا
58
عاشق بنن سُکھالا ناہیں، ویکھاں نیؤں پتنگ دے
خُشیاں نال جلن وِچ آتش ،مؤتوں مُول نہ سنگدے
59
جے لکھ زُہد عِبادت کرئیے، بِن عِشقوں کِس کاری
جاں جاں عِشق نہ ساڑے تینُوں، تاں تاں نِبھّے نہ یاری
60
جِنھاں درد عِشق دا ناہیں ،کد پھل پان دِیداروں
جے ربّ روگ عِشق دا لاوے، لوڑ نہیں کوئی داروں
61
پاک شہادت قتل ہووے گا ،جے کر اِس تلواروں
سدا حیاتی جان مُحمّد ،مرنا اِیس ازاروں
62
چاہیے عِشق سپاہی ایسا ،میں نُوں مار گوا وِے
تھانہ کڈھ طبیعت والا ،صِفتاں سب بدلاوِے
63
پکّا پَیر دھریں جے دھرنا ،تِلک نہیں مت جاوے
سو اِس پاسے پئے مُحمّد، جو سِر بازی لاوے
64
یار کرے جد اپنا تینُوں ،چھُٹسن ہور اشنایاں
ماں پیؤ سجّن یاد نہ رہسن، حِرص نہ بھیناں بھائیاں
65
جدوں جمال کمال دسّےگا ،سوہنا لعل پیارا
وِیکھن نال حلال ہوئیں گا، چھوڑ جنجال پسارا
66
خلقت تِھیں گُم ہویا چاہسیں، گُم ہویا تد پاسیں
براں وِچ درِندیاں وانگوں ،چُھپ چُھپ جھٹ لنگھاسیں
67
نالے لاغر لِسّا تھیسیں، نالے زور توانا
نالے عاقِل دانا ہوسیں، نالے مست دِیوانہ
68
کدے نچّلا بیٹھ سُکھّلا، دھاگے لاسیں جُلیّ
کدے اُٹھاسیں اگ جلاسیں، جُلیّ بِستر کُلیّ!
69
جِنھاں دِلبر پایا او...
No comments:
Post a Comment