Text Message 2

 معراج مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور تحفہ معراج نماز 📚🔸🔹🔺🔸🔹🔸🔺🔹🔸🔺🔸جنت میں بکثرت پودے لگائیں کیونکہ وہاں کی مٹی بڑی پاکیزہ ہے وہاں کی زمین بہت وسیع ہے🔹🔺🔹🔺🔸🔸🔺🔹🔺🔸🔹سفر معراج حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا وہ عظیم معجزہ ہے جس پر انسانی عقل آج بھی حیران ہے انتہائی کم وقت میں مسجد حرام سے بیت المقدس و سدرۃ المنتہی تک لمبی مسافت طے ہو جاتی ہےقرآن کریم اس کا ذکر ان الفاظ میں کرتا ہےہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو راتوں رات کے قلیل حصہ میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک با برکت بنا دیا ہم نے گر دو نواح کو تاکہ ہم دکھائیں اپنے بندے کو اپنی قدرت کی نشانیاں بے شک وہی سب کچھ سننے والا خوب دیکھنے والاسورۃ بنی اسرائیل   آیت  ایک
اس آیت مقدسہ پر غور کریں تو شکوک و شبہات کے تمام راستے خود بخود بند ہو جاتے ہیں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی عقلی اور نقلی سوالات ایک دم ختم ہو جاتے ہیں قرآن کریم نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس عظیم معجزہ کو جس مخصوص انداز سے بیان کیا ہے اس میں غور کرنے کے بعد عقل سلیم کو بلا چوں و چراں ماننا پڑتا ہے کہ یہ واقعہ جس طرح قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ میں مزکور ہے وہ بلکل سچ ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک روایت خانہ کعبہ کے پاس حطیم میں آرام فرما رہے تھے کہ جبرئیل امین حاضر ہوئے اور نیند سے بیدار کیا ارادہ خدا وندی سے آگاہ کیا حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اٹھے چاہ زمزم کے قریب لائے گئے سینہ مبارک چاک کیا گیا قلب اطہر میں ایمان و حکمت سے بھرا ہوا طشت انڈیل دیا گیا پھر سینہ مبارک درست کر دیا گیا حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حرم سے بہار تشریف لائے تو سواری کے لئیے براق پیش کیا گیا اس کی تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ جہاں نگاہ پڑتی تھی وہاں قدم رکھتا تھا حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مسجد اقصی میں تشریف لے گئے جہاں تمام انبیاء سابقین حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئیے چشم براہ تھے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اقتدا میں سب نے نماز ادا کی پھر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم آگے بڑھے اور سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو انوار باری تعالٰی کی تجلی گاہ تھی جس کی کیفیت الفاظ میں نہیں لکھی جاسکتی اور بیان نہیں کی جاسکتی
جو لوگ اللہ تعالٰی کی قدرت و عظمت اور اس کی شان کبریائی پر ایمان رکھتے ہیں اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اللہ تعالٰی کا سچا رسول مانتے ہیں ان کے لئیے تو واقعہ معراج کی صداقت پر قرآن کی آیتوں کے بعد مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں
واقعہ معراج کی اہمیت اس لئیے بھی ہے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے محبوب بندے اور برگزیدہ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو زمین و آسمان بلکہ ان سے بھی ماورا اپنی قدرت و کبریائی کا مشاہدہ کرایا حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں بے شمار چیزوں کا مشاہدہ فرمایا جنت و دوزخ کا بھی مشاہدہ کیا
🌷 جنت میں پیڑ لگائیں 🌷آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں میں آگے بڑھا ساتویں آسمان پر اپنے جدامجد حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی آپ نے اپنے فرزند محمد صلی تعالٰی علیہ وسلم کو آپ کی امت کے لئیے یہ پیغام دیا اپنی امت کو حکم دیجئیے کہ جنت میں بکثرت پودے لگائیں کیونکہ وہاں کی مٹی بڑی پاکیزہ ہے اور وہاں کی زمین بہت وسیع ہے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا کہ جنت میں کونسے پودے لگانے کے قابل ہیں آپ نے جواب دیالا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیمیعنی اس کلام سے اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا کیا کرو کہ میرے پاس نہ کوئی طاقت ہے نہ قوت بجز اللہ تعالٰی کی ذات کے جو بہت بلند اور بہت بڑا ہے
دوسری روایت میں یہ ہے کہ اپنے فرزندہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فرمایا اپنی امت کو میری طرف سے سلام کہیے اور انہیں بتائیے کہ جنت کی مٹی بہت پاکیزہ ہے وہاں کا پانی بہت میٹھا ہے اور وہاں جو پودے لگانے چاہیں وہ کلمات یہ ہیںسبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبراللہ تعالٰی ہر شریک اور ہر عیب سے پاک اور منزہ ہے سب تعریفیں اللہ کے لئیے ہیں اور کوئی عبادت کے لائق نہیں سوائے اللہ تعالٰی کے اور اللہ تعالٰی سب سے بڑا ہےبحوالہ  سیرت الرسول ضیاء النبی جلد دوم صفحہ  529سبل الھدی صفحہ  26انسان العیون جلد اول صفحہ  379
🌹 بے عمل خطیبوں کا حال 🌹آگے بڑھتے رہے سلسلہ جاری رہا پھر یہ ہیبت ناک منظر دکھائی دیا کہ قینچی کے ساتھ ایک قوم کی زبانیں اور ان کے ہونٹ کاٹے جارہے ہیں  اور وہ زبانیں اور ہونٹ کٹنے کے بعد پھر جوں کے توں ہو جاتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جبرئیل امین سے پوچھا یہ کون ہیں جبرئیل علیہ السلام نے عرض کی یہ حضور کی امت کے فتنہ باز خطیب ہیں جو دوسروں کو کہتے ہیں اس پر خود عمل نہیں کرتےبحوالہ   سبل الھدی جلد سوم صفحہ  117   سیرت الرسول ضیاء النبی جلد دوم صفحہ  508
🌷نماز مومن کی معراج اور خدائی تحفہ قاعدہ ہے کہ جب آنے جانے والا کسی کے گھر جائے تو کوئی نہ کوئی تحفہ لینا دینا ہوتا ہے  جب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قاب قوسین سے زیادہ قرب پر فائز ہوئے تو رب العزت نے اپنے محبوب کو نماز کا تحفہ عطا فرمایا نماز مومنین کے لئیے بارگاہ خدا وندی کا ایک عظیم تحفہ ہے جو سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی معراج کے طفیل مسلمانوں کو عطا کیا گیا اللہ کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیںالصلاۃ معراج المومنیننماز مومنین کی معراج ہےالحدیث
کاش کہ مسلمان اس عظیم تحفہ ربانی کی دل و جان سے قدر کرتے اور نماز کی ادائیگی میں پوری پوری کوشش کرتے تو آج یہ بدحالی اور ذلت و رسوائی کا منھ نہ دیکھنا پڑتا  نماز اسلام کا اہم رکن ہے نماز افضل العبادت ہے نماز تحفہ معراج ہے ایمان کے بعد شریعت کا پہلا حکم نماز ہےحضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر اول بار جس وقت وحی اتری اور نبوت کریمہ ظاہر ہوئی اسی وقت حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بہ تعلیم جبرئیل امین علیہ السلام نماز پڑھی اور اسی دن بہ تعلیم حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حضرت ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالٰی عنہا نے پڑھی دوسرے دن امیر المومنین علی مرتضی کرم اللہ وجہہ نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی کہ ابھی سورہ مزمل بھی نازل نہ ہوئی تھی تو ایمان کے بعد پہلی شرط نماز ہےفتاوی رضویہ جلد دوم صفحہ  108
سفر معراج میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا گزر ایسی قوم پر ہوا جن کے سروں کو کاٹا جارہا تھا وہ پہلے کی طرح درست ہو جاتے یہ سلسلہ لگاتار جاری تھا حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے پوچھا اے جبرئیل امین یہ کون لوگ ہیں جبرئیل علیہ السلام نے عرض کی یا رسول اللہ یہ وہ لوگ ہیں جو فرض نماز کی ادائیگی نہیں کرتے تھےسبل الھدی جلد سوم صفحہ    116     سیرت الرسول ضیاء النبی جلد دوم صفحہ   507
نماز نہ پڑھنے پر بہت سی وعیدیں قرآن و حدیث میں وارد ہیں اور نماز پڑھنے کے بے شمار فوائد قرآن و حدیث میں موجود ہیں نماز پڑھنے سے بے شمار برکتیں حاصل ہوتی ہیں جن کا شمار ممکن نہیں
رب العالمین اپنے حبیب پاک کے صدقے و طفیل میں قوم مسلم کو ہدایت کا ملہ کی روش پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
ماھنامہ   کنزالایمان  اھل سنت کا ترجماناپریل    2016صفحہ  16 تا 17

No comments:

Post a Comment